بولنے اور بولتے ہی چلے جانے کی لت عجیب ہے صاحبو۔ کسی ایسے سے پوچھو جس کی بولتی بند کی یا کرائی گئی ہو۔ جیسے اپنے ایک بہت ہی بڑے شاعر نے کہا ہے عجب دستور زبان بندی تیری محفل میں وغیرہ۔ اقبال بھی اگر دل کی بجائے منہ سے نکالتے تو طاقت پرواز دیکھتے۔ یقین نہ آئے تو ابھی افواہ اڑا کر دیکھ لیجئیے۔ خاکسار کی زبان یعنی کمپیوٹر درجہ شہادت پہ فائز ہونے کے بعد بولتی کی اہمیت خوب ذہن نشین ہوئی۔۔ بلاگر والا بلاگ بھی کمپیوٹر کے ساتھ ہی راہی ملک عدم ہو چکا تھا اور نئی نئی بولتی بند ہونے کے باعث دردِ شکم دردِ زہ کی شدّت کو پہنچتے پہنچتے رہ جاتا تھا۔ یکایک یار لوگوں نے گوگل ٹیکسٹ ایڈیٹر کو الو بنانے کا طریقہ دریافت فرما لیا اور دردِ شکم سے نجات کی امید ہونے لگی ہے۔ آپ میں سے اکثر نے انور مسعود کی شاہکار نظم "آج کیہہ پکائیے" سن رکھی ہوگی۔ اگر نہیں سنی تو مجھ پر یقین کیجئیے عمدہ نظم ہے۔ اگر یاد ہوتی تو پیش کرتا۔ شاعری کے بے محل ذکر سے یہ بتانا مقصود تھا کہ مجھ پہ بھی اس کثیرالعیال خاتون کی طرح جو ہفتے عشرے بعد کہیں سے لوٹی ہو اور ایک آدھ مہمان بھی بغل میں داب رکھا ہو، آج کیا پکائیں کی آفاقی کیفیات کا نزول ہورہا ہے۔
ازمنہ قبل از دردِ شکم میں یار لوگوں نے کھینچ کھانچ کالم نگاری کی کھاٹ پر ڈال دیا تھا۔ جو کہ فی الحال عاجز کی رسائی سے باہر ہے۔ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔ ایک رینگتے ہوئے مزاح نگار کو کالم نگار بنانے پہ پردہِ غیب سے انہی علامات کا نور ظہور ہوا کرتا ہے۔ مائل بہ موبائل ہیں مگر الفاظ ہاتھ سے پھسلے جا رہے ہیں۔ کالم لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مضمون بننے لگتا ہے اور مضمون شدت سے کالم پسند ہو رہا ہے۔ سوچ رہا ہون تحریکِ کالمان بلاگستان کی بنیاد رکھی جائے، آخراپنے الگ صوبہ اور اپنی الگ جماعت کا مطالبہ پیش کرنا آئینی حق اور آج کل کا فیشن ہے۔ میرے ٹوٹے پھوٹے کالم نما قلم پاروں کی اولین اور فی الحال آخری قاری محترمہ رافعہ کے بقول خاکسار بے ادبی کی اس ذیل میں نام کمانے کی خاصی صلاحیت رکھتا ہے۔ دریں چہ شک۔ پوت کے پاؤں پالنے وغیرہ میں۔۔ مگر ابھی تک میرا نام نیم پلیٹ پر ہی روشن ہو سکا ہے۔ چلتا ہے۔۔ رازی نے قریباً ادھیڑ عمری میں طب کی جانب رجوع کیا۔ نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز۔۔ اگرچہ خاکسار کا رجحان فکشن کی جانب تھا۔۔ مگر بڑوں کی بات ماننی چاہیے۔
آج چودہ اگست ہے۔ اسی پہ خوش ہو لیتے ہیں۔ چینیوں نے ایک سیٹلائیٹ بنا کر چھوڑ دیا۔ جس کو بنتے ہوئے سپارکو والے دیکھتے رہے۔ جشن آزادی کا تحفہ پاکستانی سیارہ۔ اللہ اکبر۔ پاکستان زندہ باد۔۔ یہ نصیب۔۔واللہ۔ لوٹنے کی جا ہے۔ کاش ہمارے ہونہار انجنیئیرز یہ کام پاکستان میں کر سکتے۔ مثبت پاکستان کا مطلب منفی ہندوستان لینے والے احباب جب پڑوسی کے کسی تجربے کی ناکامی پر ناچتے ہیں تو جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے یہ کام اپنے ملک میں کیا۔ اپنی افرادی قوت کی تربیت کا سامان بہم پہنچایا۔ ادھر ہمارے۔۔ لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور۔ چین ہمارا سرپرست نہ بنتا تو شائد ہم آج بغلیں بجانے کے بھی قابل نہ ہوتے۔۔ مجھے تو اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کی نوکری پہ اگر کبھی لات ماری۔۔ یا یوں کہیے کہ امریکہ کے معاشی حالات اتنے بگڑے کے مفت کے ملازم کی بھی جا نہ رہی تو ہم شائد چینی کو سرکاری اور دفتری زبان بنا لیں گے۔ بطور قوم ہمارا شعور شائد سو چکا ہے۔ ہم اگلی نسلوں کو صرف نفرت اور تنگ نظری ترکے میں دے رہے ہیں۔ ہم ذہن کی تمام بتیاں گل کرکے اپنی سوچ سے دنیا منور کرنا چاہتے ہیں۔ اور قومی غیرت کے کیا کہنے۔ بقول ایک مہربان۔۔ سبحان اللہ ماشاءاللہ کانفرنس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرینڈز آف پاکستان جیسے گروہوں کو ہم باوا کے منشی سمجھ بیٹھے ہیں۔ ادھر کچھ ہوا ادھر کشکول بردار چل پڑتے ہیں۔ دے جا سخیا راہ خدا۔۔
آئیے اس دن خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارا شعور جاگ اٹھے۔ ہم انسان کی قدروقیمت سے آگاہ ہو جائیں۔ ہم اپنی اگلی نسلوں کو کم از کم بھبھسے ہوئے ذہنوں کا ترکہ مت پہنچائیں۔
مولا شہرِگلاب سلامت
Showing posts with label افکارِ دگر. Show all posts
Showing posts with label افکارِ دگر. Show all posts
Saturday, August 13, 2011
Friday, June 10, 2011
افکارِ دگر--- بلاگنگ اور اردو
از
فریدون
بوقت
00:48
بلاگنگ، اردو مستقبل کا اہم کھلاڑی۔
بزعمِ خود دانشور، مصنف نما شے ہونے کی کافی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اور اگر آپ گمنام یا نو آموز ہیں تو یہ قیمت کئی گنا بڑھ جایا کرتی ہے۔ میٹر یا مواد کی تلاش میں ہر چیز پہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ سامنے آتا ہے اس کے وہ معانی بنتے ہیں۔ اچھے سیل مین کی طرح مواد کو مارکیٹ کرنا پڑتا ہے۔ اور ابتدائی مراحل پہ مارکیٹنگ کے لیے مواد کی موجودگی از بس ضروری ہے کہ ابھی لوگ آپ کا نام نہیں جانتے اور خریدار کے سامنے کچھ رکھنا بھی ہے۔ ہمارے پاس تحقیق سے زیادہ تنقید کے شائق آتے ہیں سو ان کو راغب کرنے کے واسطے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے ورنہ ایک تنقید برائے تنقید پہ مشتمل تبصرہ ہی ہفتوں کی محنت پہ پانی پھیرنے کو کافی رہتا ہے۔ اور آنلائن دنیا میں ویسے بھی تبصرہ لینا جان جوکھم کا کام ہے۔ جتنا آسان ہمیں پڑھنا ہے اتنا ہی آسان ہم سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ہے۔ کوئی ایسی چیز جو قاری کو کلک نہ کر سکے، قاری کو ہفتوں دور رکھ سکتی ہے۔ اور قاری کے ذہن میں آپ کی بات اگر غلط جگہ کلک کر جائے تو یہ عرصہ مہینوں میں بدل جاتا ہے۔ کتاب یا اخبار کی مانند نہ قارئین کی آپشنز محدود ہیں کہ اب یہی میسر ہے اسے ہی پڑھو اور کتاب بند کرنے کے ایک طرف رکھنے کی نسبت بلاگ بند یا سکپ کرنا کافی آسان ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)