Showing posts with label فریدوں. Show all posts
Showing posts with label فریدوں. Show all posts

Saturday, August 13, 2011

کیا پکائیں؟

بولنے اور بولتے ہی چلے جانے کی لت عجیب ہے صاحبو۔ کسی ایسے سے پوچھو جس کی بولتی بند کی یا کرائی گئی ہو۔ جیسے اپنے ایک بہت ہی بڑے شاعر نے کہا ہے عجب دستور زبان بندی تیری محفل میں وغیرہ۔ اقبال بھی اگر دل کی بجائے منہ سے نکالتے تو طاقت پرواز دیکھتے۔ یقین نہ آئے تو ابھی افواہ اڑا کر دیکھ لیجئیے۔ خاکسار کی زبان یعنی کمپیوٹر درجہ شہادت پہ فائز ہونے کے بعد بولتی کی اہمیت خوب ذہن نشین ہوئی۔۔ بلاگر والا بلاگ بھی کمپیوٹر کے ساتھ ہی راہی ملک عدم ہو چکا تھا اور نئی نئی بولتی بند ہونے کے باعث دردِ شکم دردِ زہ کی شدّت کو پہنچتے پہنچتے رہ جاتا تھا۔ یکایک یار لوگوں نے گوگل ٹیکسٹ ایڈیٹر کو الو بنانے کا طریقہ دریافت فرما لیا اور دردِ شکم سے نجات کی امید ہونے لگی ہے۔ آپ میں سے اکثر نے انور مسعود کی شاہکار نظم "آج کیہہ پکائیے" سن رکھی ہوگی۔ اگر نہیں سنی تو مجھ پر یقین کیجئیے عمدہ نظم ہے۔ اگر یاد ہوتی تو پیش کرتا۔ شاعری کے بے محل ذکر سے یہ بتانا مقصود تھا کہ مجھ پہ بھی اس کثیرالعیال خاتون کی طرح جو ہفتے عشرے بعد کہیں سے لوٹی ہو اور ایک آدھ مہمان بھی بغل میں داب رکھا ہو، آج کیا پکائیں کی آفاقی کیفیات کا نزول ہورہا ہے۔


ازمنہ قبل از دردِ شکم میں یار لوگوں نے کھینچ کھانچ کالم نگاری کی کھاٹ پر ڈال دیا تھا۔ جو کہ فی الحال عاجز کی رسائی سے باہر ہے۔ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔ ایک رینگتے ہوئے مزاح نگار کو کالم نگار بنانے پہ پردہِ غیب سے انہی علامات کا نور ظہور ہوا کرتا ہے۔ مائل بہ موبائل ہیں مگر الفاظ ہاتھ سے پھسلے جا رہے ہیں۔ کالم لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مضمون بننے لگتا ہے اور مضمون شدت سے کالم پسند ہو رہا ہے۔ سوچ رہا ہون تحریکِ کالمان بلاگستان کی بنیاد رکھی جائے، آخراپنے الگ صوبہ اور اپنی الگ جماعت کا مطالبہ پیش کرنا آئینی حق اور آج کل کا فیشن ہے۔ میرے ٹوٹے پھوٹے کالم نما قلم پاروں کی اولین اور فی الحال آخری قاری محترمہ رافعہ کے بقول خاکسار بے ادبی کی اس ذیل میں نام کمانے کی خاصی صلاحیت رکھتا ہے۔ دریں چہ شک۔ پوت کے پاؤں پالنے وغیرہ میں۔۔ مگر ابھی تک میرا نام نیم پلیٹ پر ہی روشن ہو سکا ہے۔ چلتا ہے۔۔ رازی نے قریباً ادھیڑ عمری میں طب کی جانب رجوع کیا۔ نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز۔۔ اگرچہ خاکسار کا رجحان فکشن کی جانب تھا۔۔ مگر بڑوں کی بات ماننی چاہیے۔


آج چودہ اگست ہے۔ اسی پہ خوش ہو لیتے ہیں۔ چینیوں نے ایک سیٹلائیٹ بنا کر چھوڑ دیا۔ جس کو بنتے ہوئے سپارکو والے دیکھتے رہے۔ جشن آزادی کا تحفہ پاکستانی سیارہ۔ اللہ اکبر۔ پاکستان زندہ باد۔۔ یہ نصیب۔۔واللہ۔ لوٹنے کی جا ہے۔ کاش ہمارے ہونہار انجنیئیرز یہ کام پاکستان میں کر سکتے۔ مثبت پاکستان کا مطلب منفی ہندوستان لینے والے احباب جب پڑوسی کے کسی تجربے کی ناکامی پر ناچتے ہیں تو جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے یہ کام اپنے ملک میں کیا۔ اپنی افرادی قوت کی تربیت کا سامان بہم پہنچایا۔ ادھر ہمارے۔۔ لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور۔ چین ہمارا سرپرست نہ بنتا تو شائد ہم آج بغلیں بجانے کے بھی قابل نہ ہوتے۔۔ مجھے تو اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کی نوکری پہ اگر کبھی لات ماری۔۔ یا یوں کہیے کہ امریکہ کے معاشی حالات اتنے بگڑے کے مفت کے ملازم کی بھی جا نہ رہی تو ہم شائد چینی کو سرکاری اور دفتری زبان بنا لیں گے۔ بطور قوم ہمارا شعور شائد سو چکا ہے۔ ہم اگلی نسلوں کو صرف نفرت اور تنگ نظری ترکے میں دے رہے ہیں۔ ہم ذہن کی تمام بتیاں گل کرکے اپنی سوچ سے دنیا منور کرنا چاہتے ہیں۔ اور قومی غیرت کے کیا کہنے۔ بقول ایک مہربان۔۔ سبحان اللہ ماشاءاللہ کانفرنس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرینڈز آف پاکستان جیسے گروہوں کو ہم باوا کے منشی سمجھ بیٹھے ہیں۔ ادھر کچھ ہوا ادھر کشکول بردار چل پڑتے ہیں۔ دے جا سخیا راہ خدا۔۔


آئیے اس دن خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارا شعور جاگ اٹھے۔ ہم انسان کی قدروقیمت سے آگاہ ہو جائیں۔ ہم اپنی اگلی نسلوں کو کم از کم بھبھسے ہوئے ذہنوں کا ترکہ مت پہنچائیں۔
مولا شہرِگلاب سلامت

Friday, June 10, 2011

افکارِ دگر--- بلاگنگ اور اردو

بلاگنگ، اردو مستقبل کا اہم کھلاڑی۔

بزعمِ خود دانشور، مصنف نما شے ہونے کی کافی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اور اگر آپ گمنام یا نو آموز ہیں تو یہ قیمت کئی گنا بڑھ جایا کرتی ہے۔ میٹر یا مواد کی تلاش میں ہر چیز پہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ سامنے آتا ہے اس کے وہ معانی بنتے ہیں۔ اچھے سیل مین کی طرح مواد کو مارکیٹ کرنا پڑتا ہے۔ اور ابتدائی مراحل پہ مارکیٹنگ کے لیے مواد کی موجودگی از بس ضروری ہے کہ ابھی لوگ آپ کا نام نہیں جانتے اور خریدار کے سامنے کچھ رکھنا بھی ہے۔  ہمارے پاس تحقیق سے زیادہ تنقید کے شائق آتے ہیں سو ان کو راغب کرنے کے واسطے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے ورنہ ایک تنقید برائے تنقید پہ مشتمل تبصرہ ہی ہفتوں کی محنت پہ پانی پھیرنے کو کافی رہتا ہے۔ اور آنلائن دنیا میں ویسے بھی تبصرہ لینا جان جوکھم کا کام ہے۔ جتنا آسان ہمیں پڑھنا ہے اتنا ہی آسان ہم سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ہے۔ کوئی ایسی چیز جو قاری کو کلک نہ کر سکے، قاری کو ہفتوں دور رکھ سکتی ہے۔ اور قاری کے ذہن میں آپ کی بات اگر غلط جگہ کلک کر جائے تو یہ عرصہ مہینوں میں بدل جاتا ہے۔ کتاب یا اخبار کی مانند نہ قارئین کی آپشنز محدود ہیں کہ اب یہی میسر ہے اسے ہی پڑھو اور کتاب بند کرنے کے ایک طرف رکھنے کی نسبت بلاگ بند یا سکپ کرنا کافی آسان ہے۔

Wednesday, June 08, 2011

آبِ حیاتیات پہ دو سطور

 یادش بخیر۔۔ پار سال چائے پہ لکھنے کی فرمائش موصول ہوئی۔ احقر متامل تھا کہ اولاً مشاہیر ظرافت تواتر سے اس قدر معیاری مضامین باندھ چکے ہیں کہ کم از کم مزاح نگاروں کے اعصاب پہ سوار حسینہ لپٹن دیوی کہلائی جا سکتی ہے۔ اور ثانیناً پاؤ صدی کے عشق کا بیان ایک ناپختہ مضمون میں ناممکن ہے۔علاوہ ازیں احقر کے نزدیک اسے کارِ بیکار بھی کہا جا تا ہے کہ جائے کی مدحت میں بہترین قصائد فی البدیہہ ور عینِ وصل میں ہی وارد ہوتے ہیں،اور عینِ وصل کے لذائذ  کی تفاصیل کا بیان ازلی و جبلی طور پہ غیر فطری و ناگفتہ بہ ہے۔  تاریخ گواہ ہے کہ ہر ثقہ بند عاشق کے واسطے ذکرِ لیلیٰ قربِ لیلیٰکی مہمیز ہے سو اس کلیے کے مطابق ہمیشہ چائے پہ لکھنے سے بہتر چائے نوشی ہی لگی جو راقم کے صدقِ عشق اور وفورِ شوق پہ دال ہے۔ اس اقرارِ حال کے بعد بھی اگر آپ اس مضمون کو پڑھتے ہی چلے جائیں تو یہ آپ کی خوش  مذاقی پہ دال ہے۔

Tuesday, June 07, 2011

افکارِ دگر

خیالاتِ پریشاں

گارشیا مارکیز سے میرا پہلا باقاعدہ تعارف ایک کالم کے ذریعے ہوا۔ یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ بحیثیتِ اوسط قاری میرا مطمع ہمیشہ سے کتب سے ڈیکوریشن کا کام لینا یا کبھی کبھار کسی پھڑکتی ہوئی لائن کی تلاش ہی رہا ہے۔ اور ناول کی طوالت کا ساتھ دینے کا سوال ہی خارج از امکان ہے۔ عالمی ادب کے مسلسل غیر حاضر طالب علم کی حیثیت سے لاطینی اور روسی ادب نے متاثر کیا، یہ الگ بات ہے کہ لاطینی کے معانی سے بھی لاعلم ہوں۔ خیر چلتا ہے یہ سب۔ اگر سبھی لوگ پڑھے لکھے ہوں تو ان بڑے بڑے ناولوں کو کردار کہاں سے ملیں۔ اپنے اکثر ماہناموں کا تو چولہا ٹھنڈا ہو جائے جن کی روزی ناخواندگی پہ منحصر ہے۔ لکھنےپڑھنے والے طبقات فکری طور پہ مونٹیسوری میں ہی سکول سے بھاگ لیے تھے۔ اس کے بعد سے مسلسل نجی طور پہ لکھ اور پڑھ رہے ہیں۔ خاکسار نے اپنی گنہگار آنکھوں سے عاقل بالغ لوگوں کو ایسے ادب پاروں میں فلسفہ نما اشیاءکی موجودگی کی شہادت دیتے دیکھا ہے جن میں فلسفہ تو کجا پلاٹ کی موجودگی بھی غیر یقینی لگی۔ انتہائی غیر منطقی سی منطق ہے کہ آفریدی قبائل اسلحہ سے غیر متعلقہ کوئی فلسفہ تراش سکتے ہیں۔ یوں تو اپنے ان ہر دم تیار غیور جوانوں میں کسی بھی قسم کا فلسفلہ ملنا نیلے چاند کی امیدِ سعید ہوا کرتی ہے پھر بھی کچھ دیر کو فرض کر لیتے ہیں اس قوم نے بندوق کے علاوہ کسی اور شے پہ غور کیا جس کی بڑی بوڑھیاں بھی پیش قبض سے مصالحہ زیر و زبر اور تہہ و بالا کرتی ہیں۔ سوچئیے اور محظوظ ہوئیے کہ آفریدی قبائل پہ فلسفہ کے پرچار کا نازیبا الزام لگا۔ واللہ میرے جذبات ان بھائیوں کے بارے میں انتہائی نیک ہیں اور یہ ہمارا بازوئے شمشیر زن ہیں مگر قبلہ آفریدی خون سے فلسفہ کا مطالبہ یونہی ہے جیسے شاہد

Saturday, April 02, 2011

نامے میرے نام ۲

والدِ محترم اور پاکستان میں مثالی بھائی چارہ پایا جاتا تھا۔ عمر میں دس ماہ بڑے تھے شاید اسی لیے بقول دادا حضور سارا رستہ نومولود کو آڑے ہاتھوں لیا۔ یعنی گلا پھاڑ پھاڑ خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ دادی کہا کرتی تھیں ہمیں دشمنوں سے زیادہ خوف تیرے باپ سے تھا۔ جہاں لوگ دشمن کے قریب ہوتے وہیں یہ ظبلِ جنگ بجا ڈالتے۔ مگر ظاہر ہے اس وقت کوئی بھی رجز پڑھنے کے موڈ میں نہیں رہا ہو گا اسی لیے سبھی عامۃ الناس کے ساتھ تھر تھر کانپتے لاہور پہنچے۔ پاکستان میں ابا کی وجہ سے ملازمہ رکھی گئی جس کا نام بی عنایتاں تھا۔ اور اس کی واحد ذمہ داری ابا کی اماں کے سرہانے بیٹھنا تھا۔ کم عمری کے باعث شاید بی عنایتاں کو باقی کاموں سے شروع میں دور ہی رکھا گیا اور بعد میں دادی حضور کو ان کی عادت ہو گئی۔ مطلب ان سے باتوں کی۔ سو ان گناہگار آنکھوں نے با عنایتاں کو ہمشہ ملازم پیشہ پہ حکمرائی کرتے ہی دیکھا۔ نام تو عنایت بی بی تھا مگر ہم بچہ لوگ مروجہ القاب خالہ/ اماں کبھی نہیں سیکھے۔ سو بی عنایتاں کہتے اور پیٹھ سینکتے پھرتے کہ بڑے ان کی بےحد عزت کرتے تھے۔ وہ بھی چڑنا بھول گئیں


Tuesday, March 29, 2011

نامے میرے نام ۱

خط لکھنا شاید وہ واحد عمل ہے جسے بیک وقت ضرورت اور عیاشی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دروغ بر گردنِ آغا۔ آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت کی جو مشہورِ عام صراحت کی ہے۔ اسی کو اس ضمن میں کافی سمجھو( عاقلاں را توا کافی است۔ اگر نہیں سمجھ سکے تو اس میں آپ کی محدود معلومات کا قصور ہے۔ خاکسار اس حد سے آگے بڑھ کر اس عمر میں چکی کی مشقت نہیں چاہتا)۔۔ خود میرے الفاظ میں اگر سرنامے پہ مہر ٹنڈو اللہ یار/چیچو کی ملیاں(کئی سال تک ہر دو کی بابت عرفان ایقان سے بھی بڑھ کر ہی رہا کہ دونوں اگر ہیں تو کوہقاف اور ٹمبکٹو کے درمیان کہیں ہیں) کی ہو تو اسے ضرورت اور اگر اسلام آباد کی ہو تو اسے عیاشی قرار دیا جا سکتا ہے۔

Monday, February 28, 2011

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

کہنے کو تو استاد کہہ گئے اور ہم ایسے پڑھ پڑھ سر دھنا کیے ؎ہوئے مر کے ہم جو رسوا۔۔ مگر خدا لگتی ہے یہ ان معدودے چند دعووں سے ہے جن سے خاکسار سو فیصد غیر متفق ہے۔ ایمان کی کہوں تو اپنے ہاں مردوں سے زیادہ مقام و مرتبہ فقط جرنیلوں اور محبی الطاف حسین کو نصیب ہو سکا۔ اس کے علاوہ سب ہیچ۔ اس دھرتی کا چلن ہے کہ یہاں مردوں کو مردہ بعد میں تسلیم کیا جاتا ہے اور بخشندہ پہلے۔ بینک لوٹتے ہوئے بھی مرو تو معاملہ اللہ کے سپرد کر کے فاتحہ کہہ لی جائے گی۔ صاحبو دو گز زمین اور سات گز لٹھا تو ہر نفس کا بنیادی حق ہے مگر جس طرح دو گز زمین پہ چار گز اونچا گنبد اور اس گنبد تلے چھ گز ریشم پہ ہر شخص کا حق تسلیم کیا گیا ہے، دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ آج بھی اس ملک میں غاصبوں تک بعد از مرگ اللہ کی رحمت پہنچانے والے بہت مل جائیں گے۔ " بھئی مر گیا، اب برائی مت کرو۔ اللہ کی سپرد"۔۔ کاش ہم سوچ سکیں" بھئی یہ ایک زندہ انسان ہے۔ اس کی معمولی خطائیں اللہ کے سپرد"۔


Monday, January 24, 2011

بدنام منی


رات بھر میں امیر ہونے کا ایک ذریعہ پڑوسی بھی ہیں۔ حیرت ہے ڈیل کارنیگی اور دوسرے مشاہیر کا دھیان اس جانب کیوں نہ گیا ورنہ آج بلو دروازوں والے کے سابقہ پڑوسی خاصے خوشحال ہوتے۔ اور ہم اہلِ مشرق کے بال و پر کی افزائش بلکہ افزائشِ نسل کے مواقع بھی بہم پہنچتے رہتے کہ حکیم کارنیگی و دیگر علمائے کبار کی فکری اولاد اپنے ہان جالیونس، سقراط جیسے لوگوں کے پیرو فلسفہ زدہ بڈھوں سے کسی قدر زائد ہی ہے۔ علاوہ ازیں اس عدم توجہی نے ہماری نسل کو ادب کے ایسے ذخائر سے محروم کر دیا جو ازحد مفید ہوتے ہوئے بھی دلچسپ ہوتے کہ اس علم کی مروجہ کتب بلحاظِ افادیت تو حکم کا درجہ رکھتی ہیں مگر بلحاظِ تاثیر خواب آور ہیں سو ان سے زیادہ دیر تک افادہ حاصل کرنا خاصی نفس کشی اور خلل کا متقاضی ہے۔ خیر صاحب لکیر یٹنے سے کیا ملا ہے کسی کو جو ہمیں ملے گا سو خاکسار نے عمل کی ٹھانی ہے۔ اور آج کل اس سوچ میں غطاں و پیچاں رہتا ہے کہ پڑوسیوں پہ ازالہ حیثیتِ عرفی وغیرہ کا دعویٰ کیونکر دائر کیا جائے جبکہ اکثر معلومہ ومتعلقہ عدالتیں ان کے پچھواڑے کا درجہ رکھتی ہیں۔ میری مراد گھر کے پچھواڑے سے تھی جہاں عموماً بھینس وغیرہ کے قیام و طعام کا بندوبست رہتا ہے۔



Saturday, December 04, 2010

نیلی

رنگوں کی دنیا نرالی ہے۔ انسانوں کی طرح رنگ بھی خوشی غمی جلاپے اور بڑھاپے کا شکار ہوتے ہیں، انسانوں کی ہی طرح اپنی ذات میں الگ الگ ہیں۔ مثلاً میرے تکیے پہ سفید رنگ کا جو غلاف ہے اس پہ میرا پسینہ اور بال گرنے کے باعث ایک نقش بنتا ہے جو اسے دنیا کے تمام سفید رنگوں سے ممتاز کرتا ہے اور اس کی سفیدی میں ایک خشک سے بھورے رنگ کی تار رخنہ ڈال رہی ہے۔ بے پناہ رنگ میں اگر رخنہ ڈال دیا جائے تو اس کی عفت پہ داغ لگ جاتا ہے اور پھر اس رنگ کا خریدار بازارِ دنیا سے غائب ہو جاتا ہے۔ اسے صرف وہی سہارہ دے تو دے جس نے اس کی ذات میں رخنہ ڈالا ہو ورنہ اس کا نصیب رنگریز کا دوارہ ہی ہے۔ جہاں جا کر رنگوں میں من و تو کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ہر رنگ وہاں سے دھل دھلا کر نکلتا ہے۔ اس کے بعد رنگ کی اپنی شخصیت ختم ہو جاتی ہے۔ اور رنگ کے نام کے ساتھ رنگریز کا نام جڑ جاتا ہے۔۔

میں کہہ رہا تھا کہ رنگ اپنےآپ میں جدا ہوتا ہے۔۔ الگ۔۔ قبیلے کی طرح، نسل کی طرح۔۔۔ جس طرح اولادِ آدم میں مختلف رنگوں، چہروں نے اپنے اپنے الگ گروہ بنالیے۔ سفید رنگ والے اپنی دنیا بسانے مٖغرب کے برفزاروں کی طرف چل پڑے، کالوں کو افریقہ کی جھلسی ہوئی زمین سے رزق اور گرماہٹ نصیب ملی۔۔ چپٹوں کو ہمالہ کی چوٹیوں نے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ بعینٰیہ اسی طرح سب رنگ پہلے ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ اولادِ آدم کی طرح سب کی خصلتیں اور شکلیں جدا جدا تھیں۔۔ ان میں سفید تھا، اپنی ازلی پاکیزگی میں گم۔ دھیرے دھیرے بولتا ہوا۔۔ سرخ تھا ہر ایک کے سر چڑھتا ہوا، لڑاکا مگر چنچل۔ سیاہ تھا اسرار اور جاہ و حشمت میں کی تصویر۔۔۔۔ پھر ان رنگوں کی علیحدگی کا حکم ہوا۔ سو یوں رنگ بھی اپنی اپنی خصلتوں سمیت قبائل میں بٹ گئے۔۔

Wednesday, November 24, 2010

رب کا شکر ادا کر بھائی

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری بھینس بنائی

جناور کو حیات کی کمتر شکل مانا جاتا ہے۔ حضرتِ انساں بھی عجب ہٹ دھرم ہے صاحب۔ جس ہٹ پہ جم جائے اس کا اظہار بہر حال کرتا ہے۔ کہیں دروں اور کہیں بروں۔ اسی بالادستی اور زیردستی کی ہٹ نے شاید کمتر و کمتریں حیات کے تصور کو جنم دیا۔ جس کا ساری زندگی گوشت کھاؤ، اسے صرف سال کے چند دن ہی آسائش کے مہیا کرو، وہ بھی مذہب کے مرہونِ منت ہیں کہ اگر قربانی کے جانور کی ناز برداریوں کا حکم نہ ہوتا تو اس غریب کو بھی اسی چکی میں پسنا پڑتا۔ خیر صاحب روئے ارضی کے تمام چرند اس خوش قسمتی اور اس کے جلو میں آنے والے آئینی حقوق پہ شاداں و فرحاں ہونے چاہئیں، انسانوں کو تو یہ ساماں بھی میسر نہیں ہیں کہ عید الضحیٰ پہ ان کی قربانی جائز نہیں اسی لیے کمتریں حیات والا کردار آج کل انساں کی ذمہ داری بنا ہوا ہے۔

جناور سے میرا پہلا سمبند بہت ہی بچپن کا ہے۔ ہوش میں محفوظ پہلا منظر مسماۃ رانی سے اٹھکیلیوں کا ہے۔ جو میری زندگی میں در آنے والی پہلی مونث تھی۔ اسی کے ساتھ پہروں کھیل رہتا۔ سکول سے واپسی پہ بچہ پارٹی بستہ پھینکتی اور کھانا کھانے سے پہلے رانی کے کمرے میں حاضری لگواتی۔ بھادوں کی شاموں میں اس کے گرد پھرتے ہوئے ہمارے تخیل کا وہی عالم ہوتا"چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد"۔

تعارف

جب ماہ بدولت عالم آب و گِل میں جلوہ افروز ہوے تو عمِ محترم نے شہروں کی آلودہ ہوا اور جوہڑوں کے مصفیٰ دودھ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مسماۃ رانی اور بیس عدد طلائی انگشتریوں کو(ہر انگشت کے لیے ایک) پشتینی ملازم کے ہاتھ روانہ کیا۔ حضرات چونکہ خاکسار حضرتِ گجنینہ معانی کے ساتھ پیشہِ آبا والے فخر و انبساط میں شریک رہا ہے، جس کا ایک ثبوت والدِ محترم کا آتش صفت ہونا بھی ہے۔ سو والدِ محترم نے اسی وقت مسماۃ رانی کے اہلِ خانہ کو قیمتاً حاصل کر کے ان کے سپاؤس ویزے کا اجرا فرمایا جو رفتہ رفتہ گرین کارڈ میں بدلنا تھا۔

رانی کا کنبہ

رانی کہ حسب و نسب کی اعلیٰ تھی، شجرے میں کئی گمنام سپاہی تھے جن کی پیہم سعی اور تنِ سوختہ نے نسلِ انسانی کی بقاء کی جنگ دودھ اور گوشت سے لڑی۔ ؎وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔۔
ساہیوال کا زرخیز خطہ آج انہی گمنام مجاہدوں کے مسلسل جہد کے باعث عالمگیر شہرت حاصل کر سکا ہے۔ ورنہ احشام و گلہ بانی کے علاوہ کس ہنر کے یکتا اس دھرتی پہ بسے؟ اب تو بات یہاں تک آ چلی ہے کہ اس خطے کی حالیہ پیداوار کرکٹر بھی انہی اوصافِ حمیدہ کا مجموعہ نظر آتے ہیں۔ ٹس سے مس ہونے پہ تیار نہیں مگر جب دودھ(دوڑیں)دینے پہ آئیں تو تھن(بلے) کا منہ آتش فشاں کے دہانوں کی طرح کھل جاتا ہے۔

اس طرح ایک اعلیٰ خاندان کی روایات پہ عمل کرتے ہوئے مسماۃ رانی نے ترکِ وطن کیا اور راقم الحروف کے شہر بلکہ گھر میں آن بسی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ رانی کے پرنس آف ویلز محترم بلو (موصوف عادتاً ہی نیہں شکلاً بھی پرنس آف ویلز سے کافی مشابہت رکھتے تھے) اور ڈیوک آف ایڈنبرا کو پارسل کرنے میں عمِ محترم نے خاصی رد و قدح کا مظاہرہ کیا جس کی بناء پہ ان کے گرین کارڈ منسوخ کر دئیے گئے دروغ بہ گردنِ دریائے راوی۔۔۔ویسے ایک مشہور شاہی کنبے سے اس خاندان کی مماثلت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ رانی اخیر عمر تک باوقار رہی،بلو(پرنس آف ویلز)ساٹھا پاٹھا ہو کر بھی بیوقوفیوں، بد اعمالیوں اور بد پرہیزیوں کا حسین امتزاج تھا اور دلا(ڈیوک آف ایڈنبرا) تاعمر خاندان کی بہو بیٹیوں کو سدھارنے، بگاڑنے اور مارنے کے شغل شریف میں مبتلا رہے۔


رانی غریب خانے پہ

پدھارنے کو تو رانی جی پدھاریں مگر مسئلہ یہ تھا کہ اب ان کے شایانِ شاں رہائش کا بندوبست کہاں کیا جائے۔ غریب خانے کی ڈیوڑھی اس کو وہ آسائشات فراہم کرنے سے قاصر تھی جن کی وہ وطنِ مالوف میں عادی رہی تھی۔ اور پھر اس کے خدمت گار کے قیام و طعام کا بندوبست بھی رانی کے نزدیک ہی کرنا تھا۔ سو فیصلہ یہ ہوا کہ ڈیوڑھی کو کشادہ کر کے عوام کے لیے بند کر دیا جائے اور آمد و رفت کے واسطے نئی ڈیوڑھی کھولی جائے۔،،،اس سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ دروازے ہمیشہ بڑے بنانے چاہئیں، اونٹ کسی وقت بھی پہنچ سکتا ہے چاہے بطور لگن یا "بیام" ہی پہنچے۔۔

رانی سے میری پہلی ملاقات کا سینہ گزٹ بالکل دیہی رسم و رواج کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جہاں ہر نئے جانور کو دیہاتی قریب ترین درگاہ پہ سلام کرانے لے کر جاتے ہیں۔ بقول راوی اسی طرز پہ رانی کو سجا سنوار کر ہمارے حضور پیش کرنے کا قصد کیا گیا۔ یہ کام اس کے بٹلر کے سپرد ہوا تھا۔ اب خدا جانے اس فلسفی نے رانی کو سولہ سیڑھیاں چڑھانے کے بارے میں کیسے سوچ لیا۔ وہ تو خدا ابا کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے جو وقت سے ذرا پہلے گھر پہنچ گئے۔ ورنہ رانی اور سیڑھیاں دونوں تاریخ میں امر ہونے والے تھے۔ ان کی بروقت مداخلت سے یہ سلام والی مہم معطل ہوئی اور بعد ازاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ والدہ محترمہ ذرا دیر کو ہمیں گود میں لے کر رعایا کو درشن کرائیں۔

کچھ اس ادا سے رانی کے سر پہ خاکسار کا پہلا ہاتھ پھرایا گیا کہ بوجہ اس حقیر کی چیخم دھاڑ آسمان تک پہنچ رہی تھی اور مسماۃ رانی غالباً جلالتِ شاہی کی تاب نہ لا کر تھر تھر کانپتے ہوئے رسی تڑانے کا سوچ رہی تھی۔ قصہ مختصر جلالت مآب کی حوائجِ ضروریہ عین موقع پہ تائیدِ غیبی ثابت ہوئیں اور رانی سے پہلی ملاقات انجام پزیر ہوئی۔ بعد ازیں اس وفاکوش نے جس طرح اس پہلی غلط فہمی کا ازالہ کیا وہ بیان سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی کے عرقِ حیات پہ پل کر عاجز نے اپنی زندگی کے پہلے پانچ سال اور پندرہ کلو حاصل کیے۔ رفتہ رفتہ صحت کا عالم یہ ہو چکا تھا کہ والدِ محترم کو اٹھاون ب دو سے کام لیتے ہوئے رانی کو ہماری اور ہمارے بہی خواہوں کی دسترس سے دور کرنا پڑا۔۔ اس دور میں اکثر بزرگ ہم دونوں کے نزدیک آنے سے گھبرانے لگے تھے کہ ایک سر سے وار کرتی تھی اور دوسرا ہاتھ پیر سے مزاج پوچھے لیتا۔

یہ امرِ واقع ہے کہ رانی کے دودھ سے حاصل شدہ مکھن پہ جس طرح پہلا حق میرا تھا، اتنا تو شاید بلو بھائی(رانی کے پرنس آف ویلز)کا بھی نہیں تسلیم کیا گیا ہو گا۔ اور آپ سے کیا پردہ اسی صحت بخش غذا کے باعث میں اور بلو بھائی رفتہ رفتہ ایک ہی صحت کے حامل ہو چکے تھے۔ اس کی گواہی عمِ محترم دیا کرتے جن کے باڑے میں بلو بھائی ہمہ وقت اپنی ہم نسلوں سے دل پشوری کرتے پائے جاتے۔

دودھ کی تاثیر کے بارے میں ایک تمثیل مشہور ہے۔۔کہتے ہیں بچھڑا نمبر 1(گائے کے بیٹے) نے بچھڑا نمبر 2( بھینس بیگم کے نورِ نظر) سے کہا یار آؤ آج کچھ کھیل کود کریں، موسم سہانا ہے، کئی بچھڑیاں واک کو نکلی ہوں گی۔ تھوڑی کھیل کریں کریں گے تھوڑی دل پشوری، آگے اس مسبب الاسباب کا کام ہے۔ شاید کسی رفیقہِ حیات کے مالک کو رجھانے میں کامیاب ہو جائیں۔ بچھڑا نمبر 2 جو کہ بھینس کے ثقیل دودھ پہ پلا تھا، اس کا روادار نہ ہوا۔ کہ ہاؤ ہو سراسر لغو اور شانِ مردانگی کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ چربی کے دشمنِ اول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر نمر 1 کے پیہم اصرار اور فربہ اندام بچھڑیوں کے حسیں خیال سے مجبور ہو کر اسے ہتھیار ڈالتے ہی بنی۔ سو صاحبو یوں دونوں بچھڑے ٹہلتے ٹہلتے میدان میں پہنچے، اب یہ قضیہ تھا کہ کیا کھیل کھیلی جائے جو بمبر 2 کی طبع نازک پہ گراں نا گزرے۔ دوڑ کے امکانات وہ حضرت گھر سے چلنے سے پہلے ہی رد کر چکے تھے ادھر نمبر 1 کچھ کر دکھانے کو بیتاب تھا۔ شاید اس نے حضرت حالی کا وہ مصراع سن رکھا ہو،

،؎ کچھ کر لو نوجوانو اٹھتی جوانیاں ہیں۔

سو فیصلہ یہ ہوا کہ دونوں ایک ٹیلے سے کودنے کا مقابلہ کریں گے اور جو جیت گیا بچھڑیوں کی جانب پہلے وہ جائے گا۔ سو نمبر 1 نے پہلی چھلانگ خود لگانے کا فیصلہ کیا اور ٹیلے پہ چڑھنے لگا۔ دفعتاً نمبر 2 کے ذہن میں ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح لپکا اور وہ بولا۔۔ اے میرے رفیق کیوں نہ ہم دونوں آمنے سامنے کھڑے ہو کر گردن ہلانے کا مقابلہ کریں کہ یہ عمل بھی مجرب اور ثابت شدہ ہے۔ شاید کوئی بچھڑی اسے اشارہ بازی پہ مخمول کرے اور دلوں کے کھیل میں اشارہ بازی کو وہی حیثیت حاصل ہے جو کرکٹ میں بلے کو۔ دونوں آمنے سامنے کھڑے ہو کر سر ہلانے لگے۔ شام تک مشق کرنے کے بعد جب دونوں بچھڑیوں کی طرف چلے تو دور سے ہی رکھوالوں کی لاٹھیوں پہ نظر پڑی اور اپنا سا منہ لے کر گھر کو چل دئیے۔۔نتیجہ۔ کبھی کبھار آنگن واقعی ٹیڑھا نکلتا ہے

رانی کے توسط سے ہم سب کا ایک اور واقعہ ان دنوں خاصا زبانزدِ خاص و عام ہوا اور آج تک ہم لوگوں کی چھیڑ بنا ہے۔ حتیٰ کہ میری رفیقہ حیات بھی جب تنگ کرنے کے موڈ میں ہوں تو دستِ حنائی دور سے دکھاتی ہیں، (قریب سے کریں تو انہیں نکلنے کون کافر دیتا ہے)۔ ہوا یوں کہ گھر میں حنا کا کافی رواج تھا۔ بال رنگنے، ہاتھوں پیروں پہ نقش و نگار بنانے سے لے کر معمولی موسمی پھنسیوں کا علاج اسی سے کیا جاتا۔ تو اس ماحول میں مہندی کو بچوں کی پہنچ سے عموماً دور ہی رکھا جاتا کہ ہم لوگ لالہ کے علاوہ ایک دوسرے کی حنا بندی کرنے کے بھی حد درجہ شوقین تھے۔ تو پہلی بار جب رانی کے کمرے میں ایک سبز سا ڈھیر نظر آیا تو خاکسار نے سلائی سے سب بچوں کی حنا بندی کر ڈالی۔

آخری دور

گرچہ رانی کے مزاج میں درویشی اور وفاداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی مگر دنیا کی زبان پکڑی نہیں جاسکتی۔ یارو اس فقیر کو جلال الدین شاہ خوارزم سے دور کا واسطہ بھی نہیں مگر رانی اپنی بلند ہمتی اور اعلیٰ صفات کی بناء پہ اس کے گھوڑے کے مقام تک ضرور جا پہنچی تھی۔ یعنی عدو کی آنکھ میں شاہ سے زیادہ کھٹکتی۔ رفتہ رفتہ اس خاکسار اور اس کے چند بہی خواہوں کے علاوہ کل مخلوق رانی کی بیری ہو گئی۔

صاحبو دھن دولت سے زیادہ خطرناک تن دولت ہے۔ یہ دو دھاری تلوار جب اپنی طرف چلے تو گردن کاٹنے سے پہلے نہیں رکتی۔۔یہ بھٹا سا سر اڑتا ہے۔ سو رانی بھی تن دولت کا شکار ہو چکی تھی۔ سیروں دودھ روزانہ سے چند بچوں کا حصہ نکال کر باقی انتہائی ایمانداری سے مدرسے کے طلباء کو بھیج دیا جاتا۔ باقی بچوں کے لیے گوالا دوگنی قیمت پہ دودھ فراہم کرتا، اگرچہ اس دودھ کے خالص ہونے پہ بھی کوئی شک نہ تھا کہ شیر فروش ہمارا پشتینی تھا اور روزانہ صبح ہمارے نوکر کے سامنے ہمارے گھر کے برتنوں میں دودھ دوہتا مگر وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہ تھا۔ ادھر مسماۃ رانی بھی مزاج کے اس درجے تک جا پہنچی تھی جہاں اس قسم کے معترضین کا منہ عملی اقدامات سے بند کیا جاتا ہے۔ سو روز بہ روز اس کا رویہ ہمارے ساتھ دوستانہ سے ترقی پا کر محبانہ اور معترضین کے ساتھ معاندانہ سے بڑھ کر بیہیمانہ ہوتا چلا گیا۔ کسی کو بھی ٹکر دے مارتی۔ آخری بار جس برے کو گھر تک پہنچا کر آئی وہ ہماری آستین کا سانپ نکل آیا۔ کونسل آف ایلڈرز کے دباؤ پہ ابا کو رانی کی ملک بدری کے ایگزکٹوو آڈر جاری کرنے پڑے۔۔۔۔۔سنتے ہیں اس کے بعد وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہی، اور ہم لوگ بھی اس کے جانے کے بعد اداس اور دبلے ہونے لگے تھے

Monday, October 04, 2010

لڑکی


لڑکی

میرے سامنے ایک لڑکی اور میرے ہاتھ میں ایک سکہ ہے۔ اس سکے سے مجھے ایک باس آتی ہے سو یہ میری زندگی میں آج کل اس لڑکی کے بعد اہم ترین چیز ہے۔ فرصت کا وقت میں ان دونوں کے ساتھ گذارنا ہوں۔ لڑکی کسی پینٹنگ سے نکلی معلوم پڑتی ہے۔ شوخ زرد رنگ کا سوٹ اور ستواں باریک ناک۔ باریک نقوش۔ میں جب بھی اس تصویر پہ غور کروں لڑکی اپنے ارد گرد اور بیک گراؤنڈ پہ چھانے لگتی ہے۔ وہی مغل تمکنت شوخ تر رنگوں میں، اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں ہوس کا شکار ہو رہا ہوں تو شاید غلط ہیں۔ اگر اپ بھی اس لڑکی کو دیکھیں تو ایسے ہی کریں۔ میں جب بھی اس تصویر پہ غور کرتا ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی میرے کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھلے گا اور شمشیر بردار محافظ مجھے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے۔



آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ یہ ایک تصویر ہے۔ یا ایک لڑکی ہے، یا ایک تصویر ہے، کہانی ذرا پرانی ہے۔۔۔اپنی دو دیواروں کے لیے تو میں اتوار بازار میں کھدائی کر کے پنٹنگز نکال لایا تھا مگر تیسری دیوار ننگی ہی رہی۔ اسی دیوار کی طرف میرا منہ ہوتا ہے سو میری خواہش تھی کہ کوئی آنکھوں کو تراوٹ بخشنے والی تصویر ہو۔ جس کے اندر کچھ زاویے پوشیدہ ہوں۔ مگر اس تیسری پینٹنگ کو نہ ملنا تھا اور نہ ملی۔ ایکدن میرا ایک فوٹو گرافر دوست مجھے ملنے آیا تو ننگئ دیوار کے لیے ایک تصویر لیتا آیا۔ اب میں دیواروں پہ ہینٹنگز کی جگہ تصویر کو دینے کے سخت خلاف ہوں۔۔آپ کسی یاد کو اپنے مہمانوں کے ملاحظے کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔ سو 10*12 کا پیکٹ میں نے بے دلی سے میز پہ پھیک دیا۔ میرا یہ دوست شوقیہ فوٹو گرافر ہے اور کافی رقم اجاڑ چکا ہے۔ مگر اس کی آنکھ میں ایک حسن ہے جو ہر حسین منظر کو فوراً تاڑ لیتا ہے۔۔۔۔۔



اگلے دن میری بہن ملنے آئی۔ اب بہنیں جب مائیں بن جاتی ہیں تو ان کی سرشت میں ایک عجیب سی حاکمیت در آتی ہے۔ سو میری یہ بہن میری کھولی میں گھستے ہی ماں کا کردار نبھانے لگتی ہے۔ میں دراوزہ بہن کے لیے کھولتا ہوں اور ماں کی فوٹو کاپی کو کھولی میں گھسا لیتا ہوں۔ اس دن اس کے ہاتھ یہ پیکٹ آ گیا۔ کیا ہے ،کیسا ہے جیسے لایعنی سوالوں گھبرا کر میں نے خود ہی پیکٹ کھول دیا اور یوں یہ تصویر میری دنیا میں آئی۔



پاکسات کے کسی قصباتی بازار کی تصویر ہے، پوسٹ کارڈ جیسی، جیسے جولیا لوئس کبھی گھومتی پھرتی اچانک اس طرف جا نکلی ہو اور اس مکمل تصویر نے اس کے کیمرے تک کو حیران کر ڈالا ہو۔ شٹر بند ہونے میں تھوڑی تاخیر ہوئی اور تصویر معمہ بن گئی۔ تین لڑکیاں کسی بات پہ مسکرا رہی ہیں۔ ان میں کیمرے کی آخری حد پہ یہی لڑکی ہے، مگر سب سے نمایاں ہے۔ عجیب سی بے نیازی۔ خود اعتمای، مسکراہٹ اور بیزاری کا مجموعہ۔ پکچر پرفیکٹ تاثرات، مگر ایک ملغوبہ سا، جیسے کسی مصور نے چہرہ بنا کر اس پہ بہت ساری لکیریں کھینچ دیں ہوں۔ دوسری لڑکیوں کو دھکے دے کر منظر میں گھستا ہوا اس کا عورت پن۔، بے پروا عورت۔ عورت پنے کی ایک قسم میں عورت اپنے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ اور دوسری قسم میں کسی اور کو اسے دریافت کرنا پڑتا ہے، اس کی گرہیں کھولنی پڑتی ہیں۔ اور یہ شاید دوسری قسم کی عورت ہے۔



ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میری جنوبی دیوار پہ ایک لڑکی رہتی ہے۔ عجیب معمہ لڑکی ہے۔ ہر بار نیا رنگ۔ روز ملتی ہے لیکن آج تک مجھے نہیں ملی۔ میرے بارے میں سب کچھ جان گئی ہے مگر میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ ایک لڑکی ہے۔ پتلے نمکین نقوش۔ متناسب بدن۔ پتلے پتلے پتلیوں جیسے نازک سے ہاتھ پیر، اور سب سے بڑی بات چہرہ ہے، نسوانیت کی چھوٹی چھوٹی بے شمار نالیاں بہہ رہی ہیں۔ مگر آنکھیں ان تمام نالیوں کا رستہ روکے کھڑی ہیں۔ چلنے کا انداز ایسا ہے جیسے اپنی نسوانیت کی گٹھڑی کو چھپا کے نکل جانا چاہتی ہو۔ مگر اس کا وجود اس عمل سے انکاری ہے۔ تصویر میں بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دو لڑکیوں نے اسے باندھ کے کھڑا کیا ہو۔ نکلنا بھی نہیں چاہتی ورنہ رسیاں تڑانی کونسی مشکل ہیں، اور منطر میں رہنا بھی تھوڑا مشکل لگ رہا ہے۔۔



ایسے لوگ اپنا منظر نامہ عموماً خود تخلیق کرتے ہیں۔ اسے ہیری پورٹر کے کرداروں کی طرح ایک تصویر میں رہنا پسند نہیں۔ تصویریں بدلتی رہتی ہے۔ کبھی کبھی مجھے اس تصویر سے غٰیر حاضر ملتی ہے۔ میں سمجھ جاتا ہوں کہ کسی اور حرماں نصیب دیوار کی اشک شوئی کے لیے گئی ہے۔ مگر میں اسکا عادی ہو چکا ہوں۔ سو غیر حاضری کا یہ عرصہ میں منہ پھلا کر گذارتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ اب آئے گی تو اسے بات نہیں کرنی۔ مگر ہر بار آتے ہی دونوں لڑکیوں کو گھسیٹ کے پیچھے کرتی ہے اور الف لیلوی مینا کی طرح شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی میرے سے بہت لڑتی ہے۔ تصویر بدلنے سے پہلے سفید جھنڈا لہرانا کبھی نہیں بھولی



شاید آپ سمجھیں کہ میں اس کا اسیر ہو گیا ہوں۔ میری ہونے والی بیوی اگر یہ بات سن لے تو میں کنوارا ہی مروں۔ مگر میں اس کا اسیر ہوں۔ بس اسے کوئی نام نہیں دے سکا۔ اپنی زندگی میں آنے والی اہم ترین عورت کو کوئی نام دینا میرے بس سے باہر ہے۔ اسی لیے میں اسے گنگا جمنی کہتا ہوں۔ عجیب گنگا جمنی ہے۔ نرتکی بھی ہے اور دیو داسی بھی۔ کبھی کبھی دیوی کا روپ دھارن بھی کرتی ۔ اور ابھی تک کے اندازوں کے مطابق یہی اس کا سب سے غالب روپ ہے۔ توانا روپ، گیانیوں کے گرد ناچتی ہے اور جب گیانی آنکھیں کھولتا ہے تو ایکدم سرسوتی دیوی کا روپ دھار لیتی یے۔ پھر گیانیوں کی توجہ بٹنا اس کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ بیک وقت کئی سمتوں کی راہی۔ ہنس ہنس کے بات کر رہی رہو گی کہ اچابک آپ پہ انکشاف ہو گا یہ تو کہیں اور ہے۔ ہمیشہ اس انکشاف کے بعد میں اپنے آپ آپ پہ قابو پانے میں ناکام رہتا ہوں۔ تصویر اتارنے کے لیے بڑھتا ہوں مگر اس کی کوئی حرکت پھر میرے قدم روک دیتی ہے۔ اور پھر آنکھیں گھماتی ہوئی ہوئی تصویر سے نکل بھاگتی ہے۔



یہ لڑکی رشتے شروع کرنے کی عادی ہے۔ بیک وقت کئی رشتے شروع کرتی ہے اور انہیں وہیں پہ چھوڑ کر کسی اور تصویر میں مزید رشتوں کی بنیاد رکھنے چل پڑتی ہے۔ رشتوں سے یہ آڑ کا کام لیتی ہے۔ کبھی تصویر کی باقی لڑکیوں کے پیچھے چھپی رہتی ہے اور پھر مجھے غافل ہوتا دیکھ کے ایک دم سے ان دونوں کو دھکیل کر آگے آ جاتی ہے۔ اور بٹر بٹر باتیں کرنے لگتی ہے۔ جب دیکھتی ہے کہ میں باتوں میں محو ہو رہا ہوں تو ایکدم سے اوئی اللہ کہتی ہوئی انہی لڑکیوں کی طرف بھاگتی ہے۔ وہ لڑکیاں اس کے مجھ سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ شاید اسی لیے میں ان دونوں سے جلتا ہوں۔ میرا ارادہ ہے کہ کسی دن اسکی غیر موجودگی میں ان دونوں کو کاٹ پھینکوں۔ مگر پھر اس کا ہاتھ آڑے آ جاتا ہے جو ان میں سے ایک لڑکی کے کندھے پہ ہے۔



اگر میں جوگی ہوتا تو اجنتا جا بیٹھتا ، جنگلوں بیلوں میں اس کے ہیچھے پھرتا۔ مگر میں بیراگی نہیں ہوں۔ یہ جوگ بیراگ کے دھندے اسی کو سجتے ہیں جو کان میں بالے اور بدن پہ گلیمِ غم ڈال کر خاک چھان سکے۔ میں تو بس ایک تصویر کا اسیر ہوں۔ کہتے ہیں کہ پرانے مصر میں فراعنہ کا سورج جب نسف النہار پہ تھا تو اس وقت ایک جادو کا زور تھا۔ بڑا جادقگر کسی کو بھی تصویر میں قید کر کے امر کر دیتا۔ میں بھی کسی بڑے جادو گر کی تلاش میں ہوں جو مجھے اس کی تصویر میں قید کر ے امر کر دے۔ میں شی سے مل لوں ایک بار۔ شی کا فسوں خیز حسن دیکھ لوں، غسلِ آتش بھی قبول ہے۔ اسے محسوس کر سکوں، قریب سے اس راز کی پرتیں کھول سکوں جو صرف میرے لیے ہی راز ہے۔ اس کے بعد چاہے واپس آوں یا نہ آؤں۔ ایک ہی بات ہے مگر اس کا راز ضرور پانا ہے۔ دیوی ہے یا نرتکی

Monday, September 20, 2010

دوسرا درویش



دوسرا درویش

عجیب سی بے کلی طاری ہے۔ کسی کام میں جی نہیں لگتا۔ پہروں خالی الذہنی کے عالم میں آنلائن بیٹھا رہتا اور دوست بلاوے بھیج بھیج کر تھک جاتے۔ ایک خالی پن ہر چیز کو نگل رہا تھا، عجیب تر محسوسات تھے جیسے عین میدانِ جنگ میں کسی سے زرہ بکتر چھین لی گئی ہو۔ پچھلے کچھ عرصے سے دل پہ ایک عجیب سا سہم طاری ہے۔ اسی عالم میں پاکستان سے فون آیا کہ دوسرا درویش اٹھ گیا ہے۔

لگا جیسے یکدم کسی نے اوجِ ثریا سے تحت الثریٰ پہ دے مارا ہو۔ ایک دہائی یاد آنے لگی۔ وہ ٹیلیفون کالز یاد آنے لگیں جن کا مقصد صرف خیر خیریت کے بہانے دعائیں دینا تھا۔ عجیب بات ہے نیرے بہت ہی کم آنسو نکلے۔ حالانکہ درویش سے میرے قلبی تعلق کو جاننے والوں کا خیال تھا کہ میں ٹکت کٹا کر پاکستان جا پہنچوں گا

------------

دوسرے درویش سے میرا تعلق کب استوار ہو یہ میں بھی نہیں جانتا۔ شاید میں اس وقت پہلے درویش کے جسد خاکی پہ یادوں کی۔ دو مٹھیاں ڈال کر ایک سنگی قبر کے کتبے پہ دل گرفتہ بیٹھا تھا جب دوسرے درویش کا ہاتھ میرے کندھے پہ ٹکا۔ فطری طور پہ میں رشتوں کے معاملے میں بڑا خود غرض ہوں۔ بالکل آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والی بات، مگر یہ پہلا درویش تھا جس سے میرا تعلق تھوڑے عرصے کا ہی سہی مگر اپنے اندر تمام تر شدائد سموئے ہوئے تھا۔ سو دل گرفتگی کا ایک نیا جہاں اپنے در وا کیے ہوئے تھا جب دوسرے درویش نے مجھے گلے سے لگایا اور دس سال پہ محیط اس طویل تعلق کو شروع کیا جس کے دوران دوسرا درویش پہلا درویش اور پھر واحد درویش بن بیٹھا۔

مگر بات یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کبھی درویش بننے کی کوشش نہیں کی تھی۔ حضرت، درویش یا بابا کہہ دو تو لڑنے مرنے پہ تیار۔ دنیوی لحاظ سے فقط گریجویٹ مزدور جو سارا دن اپنے اور اپنے خاندان کے لیے رزقِ حلال کی جدوجہو کرتا پایا جاتا اور رات کو زاہدِ شب زندہ دار، شاید ہی کوئی ایسا جمعہ ہو جب میں نے اسے کچھ کھاتے پیتے دیکھا ہو، بلکہ عام دنوں میں بھی کم ہی حلق سے کچھ نیچے اترتا کہ نجانے کون کون سے روزے رکھنے کی عادت تھی۔ یہ والا روزہ وہ والا روزہ فلاں نوافل ڈھمکاں اوراد، شاید ہی کبھی تین چار گھنٹے سے زیادہ نیند لی ہو۔ نجانے کون کون سے روگ پال رکھے تھے۔

میری اور اکثر جوان لوگوں کی عادت ہے کہ ایسے کیسز سے دور ہی بھاگتے ہیں۔ بس نماز پڑھ لو اور دین پہ اسے احسانِ عظیم سمجھو۔ بڑا تیر مار لیا چند روزے رکھ لیے اب تو اللہ میاں پہ لازم ہے کہ ہمیں جنت میں کوٹے کی سیٹیں الاٹ کرے، میں تو خیر اتنے کا بھی رودادار کم ہی رہا ہوں کہ آج کل اللہ کی حب اور اس کی بندگی جیسے دقیق مضامین فقط دینیات پاس کرنے کو رٹے جاتے ہیں۔ اور عشقِ رسولﷺ کا داخلہ ہماری درسگاہوں میں کم ہی ہوتا ہے۔

درویش کی سب سے بڑی خوبی ہم آوارہ گردوں کو غیر محسوس طریقے سے مشرف بہ اسلام کرنا تھا۔ عجب بات ہے کہ ہمیں کبھی بھی درویش کی صحبت میں بوریت کا احساس نہیں ہوا۔ صحبت کیا تھی بس چند لوگ غمِ دنیا پہ گفتگو کی محفلیں سجاتے جو عموماً درویش کی موجودگی کے باعث دھیرے دھیرے چوتھے پانچویں بعد سے ہوتی ہوتی اللہ پہ منطبق ہوتی اور حاصلِ کلام ہمیشہ یہی نکلتا کہ ہم لوگ بندگی کے دائرے سے نکلتے جا رہے ہیں اسی لیے یہ مشکلات پماری جان نہیں چھوڑتیں۔۔ پہلی بار کسی کو پچھلی صفوں سے قیادت کرتے دیکھا تھا۔ کسی تازہ ترین خبر یا کبھی کبھی ہماری کسی رنگین مصروفیت سے بات شروع ہوتی اور درویش خاموشی سے پہلے ہماری بات سنتا۔ بات آگے چلتی اور اس کے بعد اچانک ہی ہم اللہ اور بندے کے تعلق پہ گفتگو کرتے پائے جاتے۔ درویش نفاذ سے زیادہ نفوذِ اسلام کا قائل تھا، سو جبر یا حکم کا گزر کم ہی ہوا ان محفلوں سے اور مزے کی بات ہے کہ ہم سب ہی بندے دے پتر بن گئے۔

جوانی میں سب ہی عقلیت پسند ہوتے ہیں اور اسی زعم میں ماننے کی سہولت سے جان چھڑا کر جاننے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ اکثر تو اسلام کی بنیادوں پہ ہی شکوک کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں۔ دین میں عقلیت کا دخل ہے مگر اس سے پہلے ماننے کی گھاٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔۔۔لا إله إلا الله محمد رسول الله کی گھاٹی مان کر عبور کرنا زیادہ آسان ہے کہ اسے جاننا جان کا روگ بن جاتا ہے۔ تو بات ہو رہی تھی کہ ہم میں سے اکثر عقل و فلسفے کے گھوڑے دوڑاتے دوڑاتے حدود سے نکل جاتے ہیں اور ایسے گمراہ سواروں کا ہانکا کرنا درویش کا مشغلہ تھا۔

درویش کی زنبیل ایسے عقلی دلائل نکلتے کہ خدا کی پناہ۔
میرے ہاتھ پہلے درویش کے ذخیرہِ کتب سے تراجم، بخاری شریف کی ایک جلد، حجۃالاسلام اور دیگر آئمہ کی چند کتب لگیں تھیں جو میں چاٹ کر پھنے خان بن چکا تھا۔ میرے پر جھاڑنے میں درویش کی حکمتِ عملی بڑی زبر دست تھی۔ کوئی نئی حکایت سنی جاتی اور اس پہ ایسے سوالات ہوتے کہ مجھے ہار مانتے ہی بنتی۔ اس کے بعد اسی حکایت یا مسئلے پہ نئے سرے سے روشنی ڈالی جاتی۔ شاید دو ماہ میں ہی میری علمیت کا سورج نصف النہار سے150 کے زاویے پر آ گیا تھا۔

شاید دینی تعلیم بھی حاصل کی تھی جس کا عدم ثبوت زبان میں عربی تراکیب کی غیر موجودگی تھی۔ تصدیق کے لیے فقط اہلِ خانہ ہی میسر تھے۔ بہر حال علومِ دینی اور منطق پہ دسترس کئی قسم کی اشارے بازی کرتی۔ مگر اس اشارے بازی کی تمام تر نفی اپنی ذات تھی، جہاں ذرا اس نیت سے سوال کیا جاتا کہ علمی مقام سامنے آئے یا تو ایسی بات ہوتی کہ ہم سب ایک سو ایک سوالات میں الجھ کر علمی پسِ منظر کی جان چھوڑ دیں یا پھر اکثر ٹھس۔ میں نہیں جانتا ایسے وقت میں چہرے پہ کھدا نظر آتا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے درویش نے بوجہ مجھے کبھی توجہ کے قابل نہیں جانا تھا مگر دوسرے درویش نے کسی اور کو،،کئی ہوں گے میرے جیسے بے عمل جن کی اصلاح کا بیڑا اٹھا رکھا ہو گا مگر مجھے یہی لگتا ہے کہ وہ توجہ صرف میرے لیے ہی مخصوص تھی۔ اور شاید درویش کی کمائی میرا سجدہ ہی تھا کہ میں مکمل بے عمل اور بے دین ہو چکا تھا۔

شاعری کا چسکا تو کافی بچپن سے تھا۔ مولانا روم کا ایک ترجمہ کہیں سے ہاتھ لگا۔ کسی نے کہہ دیا کہ اصل کا اپنا ہی مزا ہے۔ اب میں والدہ محترمہ کے سر ہو گیا کہ مجھے گلستان و بوستان سے شروع کرایا جائے۔ یہاں تک کہہ دیا کہ آپ نے ایم اے میں نقل کی ہے ورنہ یہ تو بنیادی کتابیں ہیں آپ کیوں نیں پڑھا سکتیں۔ بس جی پھر ایک لمبی داستان ہے کیسے مجھے درویش نے اپنے سایہِ عاطف میں جگہ دی اور کلیاتِ اقبال سے شروع کرایا۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ درویش نکتہ آفرینی اور تغزل میں حافظ و ہمنوا کا بڑا بھائی ہے۔ یہ واحد صنف ہے جس کی میں نے ذرا جم کر دو ایک ماہ تربیت لی اور بھاگ نکلا کہ ایک مصراع نہیں موزوں ہوتا تھا(اب بھی یہی حال ہے) ادھر درویش صاحب روز نئی اپچک لیے بیٹھے ہوتے۔ پہلے مہینے ہی میرا پِتہ پانی ہو گیا اور میں تقطیع کو سات سلام کر کے بھاگ نکلا۔ فیصلہ ہوا کہ صرف خیال پہ بحث کی جائے گی۔

اس دور میں درویش نے شیو کمار بٹالوی۔ سلطان باہو، شاہ ہاشم دریا دل۔ وارث شاہ۔خواجہ غلام فرید اور میاں محمد بخش سے میرا تعارف کرایا۔ ان میں سے میری جان کے اصل روگ شیو کمار اور میاں محمد بخش بنے۔ کیا شاعری ہے صاحب۔ خاص طور پہ میاں صاحب کی۔ ایک جذب کی سی کیفیت ہے۔ لہریں سی نکلتی ہیں۔ان کے ایک شعر کا کچھ یوں ترجمہ کیا تھا اس زمانے میں، پہلا مصراع ذہن سے محو ہو گیا ہے اور یہ موجودہ مصراع شاید خارج از بحر ہے

جس دل میں بھی عشق سمایا اس کا کام ہے رونا
سنجوگ پہ رونا، بچھڑتے رونا، آتے جاتے رونا

جنہاں تناں وچ عشق سمانا رونا کم اوناہاں
ملدیاں رونا، وچھڑدے رونا، رونا جاندیاں راہاں

شعر و شاعری کے یہ اسباق بمشکل دو ماہ ہی چلے ہوں گے کہ میرا دل اچاٹ ہو گیا۔ ہٹاؤ بھئی میری نثری نظم اگر نہیں پسند آتی تو میرے سے یہ والی شاعری بھی نہیں ہوتی۔ اس کے بعد مجھے عربی سیکھنے کا سودا ہوا مگر شکر کہ عربی کافی مشکل زبان ہے سو بات لغات کی خریداری سے آگے نہ جا سکی۔ بہت ہوا تو چند الفاظ جوڑ کر ایک سطر بنا لی۔ اور اس کو مصراع کہہ کر اتراتے رہے۔


-------

اسی دوران میں تحصیلِ علم کی خاطر جس درسگاہ میں پہنچا وہ درویش کے دولت خانے سے زیادہ نزدیک تھی۔ گفتگو کا چسکہ لگ چکا تھا سو کم و بیش روزانہ ہی جا پکڑتا۔ کبھی کبھی خوشقسمتی سے درویش کے ساتھ تنہائی میسر آ جاتی تو پہلا سوال یوں ہوتا،"سنا بلی رکوع چ کنی واری تسبیح کرنا ایں" یا پھر" عصر دیاں سنتاں موقدہ نیں یا غیر موقدہ" اب مجھے تو گفتگو کا چسکا تھا جس کے لیے ایسے سوالوں کے بھی غلط سلط جواب دئیے جاتا۔۔لیکن درویش کی اسی حکمتِ عملی نے مجھے مسجد پہنچا کر ہی دم لیا۔

اس کے بعد تعلقات کا وہ دور شروع ہوا جسے میں زندگی کا حاصل کہہ سکتا ہوں۔ درویش نے ریٹائرڈ لائف شروع کی جس کا مطلب ہماری ٹولی کے لیے وقت ہی وقت تھا۔ اکثر عشاء کی نماز کے بعد جا پکڑتا اور اس کے بعد درویش کے آنگن میں بیٹھا جاتا یا کبھی کبھی نہر والی سڑک پر چہل قدمی شروع ہو جاتی۔ اور غمِ حیات کا مداوا کیا جاتا۔ مگر حیات تو درویش کی نظروں میں ایک نعمت تھی جس کا صحیح استمعال سب پہ فرض تھا۔ روزمرہ مسائل سے ایسے ایسے نکتے نکالے جاتے کہ کتابیں لکھی جا سکیں۔ کوئی بھی تذکرہ ہو گھوم پھر کر درویش کی سوئی بندگی اورﷺ رسول کی اطاعت پہ آ رکتی۔ اور پھر چل سو چل۔ پھر درویش کےمنہ سے بندگی اور اطاعت کے پھول جھڑنے شروع ہو جاتے اور نوافل کا وقت ہونے تک جھڑتے ہی چلے جاتے۔

اس سلسلہ میں درویش کا عقیدہ یہ تھا کہ اسلام میں مکمل داخل ہوا جائے۔ ہوس اور طمع سے پرہیز کیا جائے اور جہاں تک ہو سکے فرامینِ رسالت مآب پہ عمل کرو۔ زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ درویش کی نطر میں مسکلات کی بڑی وجہ ایثار کا ناپید ہونا تھا۔ میرا محبوب ترین موضوع تصوف تھا کہ مزے مزے کی دلنشین باتیں سننے کو ملتی ہیں، تصوف میں بھی کرامتیں اور رویائے صادقہ میرے آل ٹائم فیورٹ تھے۔ درویش کو بس ذرا چابی دینے کی ضرورت پڑتی اور میں شروع۔ مگر درویش کے نزدیک اگر تصوف کا مقصد انہی چیزوں کا حصول تھا تو پھر کاہن اور صوفی میں کوئی فرق نہیں۔ تصوف تو خدمت اور بندگی کا نام ہے۔۔۔فقیر خالی پیٹ سوتا ہے۔ صوفی کی ساری عمر مخلوقِ خدا کی خدمت اور انہیں راہِ ہدایت دکھانے میں نکل جاتی ہے۔ کرامات کی ضرورت تو وہاں ہو جہاں لوگ مانتے نہیں یا آپ خدمت کی حد عبور کر چکے ہوں۔

تصوف اور فقر کے بارے میں درویش کا فلسفہ نرالا تھا۔ رہبانیت سے تو جیسے ازلی دشمنی تھی۔ رسولؐ کی حیاتِ مبارکہ سے حوالہ دیا جاتا کہ ان سے اوپر کون ہے؟ جب انہوں نے رہبانیت کی بجائے مخلوق میں رہ کر اس کی رہنمائی کی تو باقی لوگ دھڑا دھڑ جنگلوں کا رخ کیوں کرتے ہیں؟ ایک بار میں نے حضرت اویس قرنی کی مثال دی تو فوراً کہا ان کی ماں جب تک حیات تھیں وہ بھی جنگلوں کی طرف نہیں گئے۔ باقی ہما شما کون ہیں۔۔سالک کو راہِ سلوک پہ قدم رکھتے ہی مخلوق کی رہنمائی شروع کرنی چاہئیے۔

ان تمام جہات سے سوا درویش کی زندگی میں ایک اور جہت بھی تھی۔ فقر و تصوف کی، جو تا دمِ آخر اکثر اہلِ خانہ سے بھی پوشیدہ ہی رہی۔ آج کل میں نے کم ہی لوگوں کو حلال کاروبار سے لاکھوں کما کر ایک چھوٹا سا گھر قرض سے خریدتے دیکھا ہے۔ یہ امرِ واقع تھا کہ رقوم ہاتھ آتے ہی ناداروں کی یاد ستانے لگتی۔ تمام عمر جس کاروبار کو حلال طریقے سے پروان چڑھایا اس میں بدنیت لوگوں کی آمد غیرتِ فقر نے گوارا نہ کی۔ چلتا کاروبار سستے داموں بیچ کر نکل گئے۔۔

کبھی بھی کشف اور تصرف جیسی چیزوں کو استمعال کرتے نہیں دیکھا۔ اپنا ہی کہنا تھا کہ کم ظرف لوگ تھوڑی کو بہت جانتے ہوئے اچھلنے کودنے لگتے ہیں۔ مردوں کو یہ بات زیبا نہیں دیتی۔ رسولؐ نے جیسی زندگی گزاری ویسے گزارو۔ ان سے زیادہ اللہ کا کرم کس پہ ہوا ہو گا۔ ہمیں بھی درویش کی اس سمت کا بس اندازہ ہی تھا۔ کیونکہ ایسی بات شروع ہوتے ہی نماز یا دوسرے شرعی احکام کی گنتی شروع ہو جاتی۔۔یہ اندازہ بھی ہم لوگوں نے وفات سے صرف دو ماہ قبل قائم کیا کہ درویش صرف درشنی پہلوان یا نیکو کار بوڑھا ہی نہیں ہے اور پھر درویش چلا گیا۔


ــــــــــ

درویش نے مجھے کیا سے کیا بنا ڈالا۔۔سوختہ قلب کو جینے کا انداز دے دیا۔۔۔یہ چند یادیں دس سال کی اس رفاقت سے لکھ رہا ہوں جس کی ہر ساعت ستارہ ہوئی۔
میں پریشان ہوں۔۔روتا ہوں تو درویش کا کہا ذہن میں آ جاتا ہے کہ جوانمردوں کو صرف خشیت الٰہی یا پاسِ رسولؐ کا گریہ ہی زیب دیتا ہے۔۔۔۔ روائج کے مطابق فاتحہ کہنے کی کوشش کرتا ہوں تو الفاط نطق کا ساتھ چھوڑنے سے انکاری ہیں۔ ۔۔۔۔چیریٹی کرنے کی کوشش کی تو وہ گھر یاد آ جاتے ہیں جہاں درویش کی وجہ سے چولہا جلتا تھا۔۔۔۔۔ بس ایک خالی پن ہے اور فیض کا یہ شعر گنگنا رہا ہوں


ایک بار اور مسیحائے دلِ دل زدگاں
کوئی وعدہ کوئی اقرار مسیحائی ک

Tuesday, August 24, 2010

ماموں مووی گندا بچہ


ماموں--مووی--گندا بچہ


صاحبو پچھلی تحریر ڈرتے ڈرتے پیش کی اور پھر قائرین کی فطانت دیکھتے ہوئے زیرِزمین ہوتے ہی بنی، آپ سے کیا پردہ کہ عاجز کے روانی اور فصاحت و بلاغت جیسے مکروہاتِ دنیوی سے بعینہِ وہی مراسم ہیں جیسے اپنے محبی اعجاز بٹ صاحب کے کرکٹ سے ہیں۔ سو کہنے میں باق نہیں کہ احقر کو دریا سے سوکھا نکلنے کا وہ وصف جسے لوگ بڑے جہد سے حاصل کرتے ہیں، بفضلِ تعالیٰ آغازِ سفر سے ہی زادِ سفر کے طورپہ میسر رہا ہے۔
 ہمارے بعد نہ اس راستے گیا کوئی


سو اس اعتراف نامہ کے ساتھ ایک اور "شاہکار" پیشِ خدمت ہے۔




یادش بخیر۔ کیا بچپن تھا۔ اپنے نصف قطر میں آنے والے ہر بزرگ سے اٹھنی اینٹھ کے کولا سے شغل فرمایا جاتا جو فی زمانہ ہمارے لیے بادہ ناب سے بڑھ کر ہی تھا، کہ اس سے بڑھیا عیاشی کا تصور تک اس وقت ہماری سوچ سے کالے کوسوں دور تھا۔ اسی کولا کے خمار میں بہکے بہکے پھرتے۔ اور لطف کی بات تو یہ ہے کہہ اسی ہفتہ وار کولا کے خمار میں ڈان جوآن بنے پھرتے۔ صد شکر کہ شمشیر و سنا کا زمانہ لد گیا تھا اور کلاشنکوف کا ابھی ہم تک پہنچا نہیں تھا ورنہ ہم میں سے اکثر کولا کے نشے میں ہونے والی ڈوئیل میں کام آ جاتے۔


ہمارے وقت یعنی ازمنہ قبل از بالغ نظری میں دو اخبار تھے اور ایک ٹی وی چینل، جو عام طور پہ آگہی جیسی بیماریوں کا کافی و شافی علاج تھا۔ دس پندرہ ماہ پہلے کے عالمی تجزیات کو جس طرح حالاتِ حاضرہ کا نام دے کر مے خواروں کی دلجوئی کا بندوبست کیا جاتا وہ سب دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ چھ بجے والی خبروں میں طویل العمر نیوز کاسٹرز گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے مادر ملکہ سے ہمکلام ہونے کی مشق کرتے اور پھر نو بجے وہی کام آسان مگر جیستاں اردو میں ہوتا کہ اردو میں مادر ملکہ کی بولی کافی ادق ہے۔ مطمع نظر شاید یہ تھا کہ مدحِ سرکار کے علاوہ کوئی چیز کسی کی سمجھ میں نا آ سکے۔


آج کل تو اخباروں اور خبروں کی اتنی بھیڑ ہے کہ ذہنوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں۔ کسی معمولی سی خبر کے بھی پیدا ہوتے ہی اس کی کوریج شروع۔ اب تو للو کے چھینکنے پہ بھی بریکنگ نیوز چل جائے، آدھ انچ موٹے قلم سے آٹھ انچ لمبی بے مقصد سرخیاں ڈال کر ضمیے بھرے جاتے ہیں۔ خاص طور پہ شام کے اخبار تو فلمی ستاروں کی شناسی کے گر عوام کو حفظ کرانا اپنا فرضِ عین سمجھتے ہیں۔


خیر ذکر چل رہا تھا ہمارے بچپن کا تو صاحبو اس وقت بچہ لوگ کو پانچ بجے والے کارٹون اور کبھی کبھار آٹھ بجے والے ڈرامے کے علاوہ ٹی وی کا قرب تہواروں پہ ہی نصیب ہوتا، وہ بھی خوش قسمتی سے، ایسی خوش قسمتی جس میں بہت سے اگر مگر پھولوں کی طرح کڑھے ہوتے۔۔اگر ابا نماز پڑھ کر دوستوں کے پاس بیٹھ گئے اور وہیں سے دادی کی قبر یاد آ گئی تو دس بجے والا عید شو دیکھا جا سکتا ہے مگر اس وقت بہو بیٹیاں بانہیں چڑھائے اماؤں کی کمان میں احاطہ نظر میں آنے والی ہر منقولہ و غیر منقولہ شے کی رگڑائی میں مصروف ہوتیں اور ان مراحل سے تو بڑے بڑے جگرے والے پناہ مانگتے ہیں۔ شومئی قسمت سے ٹی وی والا کمرا کھلا مل جاتا تو بھی عید شو کے ساتھ پسِ پردہ موسیقی کے طور پہ فرنیچر گھسیٹنے کی آوازیں، ہر پانچ منٹ بعد بہنوں کی مدد کا حکم، عید شو کو بھی خبر نامہ بنا ڈالتے۔ گیت چل رہا ہے۔ “میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں ۔۔کیوں صدا آ رہی ہےےے۔۔ سو نان لانے ہیں ابھی چلے جاؤ ورنہ انتظار کرنا پڑے گا، تمہارے بھائی ٹماٹر لیتے آئیں گے۔ ان کو تمہارے پیچھے بھیج دوں گی”۔ سو اس جادوئی ڈبے اور اس میں بسنے والی دنیا کا قرب ہمیں عیدین پہ بھی قسمت سے ہی نصیب ہوتا۔ کافی عرصہ بعد دو ایک نجی چینل شروع ہوئے سمجھئیے چھپر ہی پھٹ گیا مگر اس وقت ہم اس قسم کی حاجتوں سے بے نیاز ہو چکے تھے۔
اپنی دنیا آپ کر پیدا اگر زندوں میں ہے


اس ماحول میں ہم لوگ کیونکر بالغ ہوئے؟۔ ہمیں کافی عرق ریزی کے بعد یہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ اس امر میں بھی قادرِ مطلق کی قدرت پوشیدہ ہے، اس کے بنائے ہوئے کارخانے میں جہاں کلی سے پھول نکلتے ہیں، وہیں ہم بھی جوان ہو گئے۔ ورنہ یہ حالات بچوں کو جوان بنانے والے ہر گز نہیں تھے۔ ہائی سکول میں یہ حال تھا کہ ہر مستور و ملفوف شے کو دیکھ کر رستہ بدل لیتے اور گھنٹوں قدرت کے اس حسین اتفاق پہ مسرور رہتے۔ ویسے اس وقت اکثر اشیاء مستور و ملفوف ہی ہوا کرتیں کہ سڈول بانہیں دیکھنے کو اہلِ نظر اپنے اینٹینے دوردرشن کے حساب سے سیٹ کرتے۔ جو اس زمانے میں عموماً اور رمضان المبارک میں خصوصاً مومنین کے قلب و نظر کے انشراح کا خاصا اہتمام کرتا۔ ہم ایسے کور چشم یہ مناظر چشمِ تصور سے دیکھ کر دل کی سیاہی سے ان کی تفاصیل رقم کیا کرتے


دیکھا جائے تو یہ جذبات اتنے بیہودہ بھی نہیں، بس اظہار کا طریقہ غلط ہے۔ جس کے نتیجے میں نفسیاتی الجھنین جنم لیتی ہیں۔ ہر ذی روح کا مخالف جنس کی طرف کھچنا قدرت کا مسلمہ اصول ہے۔ انسان کی اس جبلت پہ جتنے چاہیں پہرے بٹھا لیں یہ ابھر کر رہے گی۔ یہاں نہیں تو وہاں۔ اور وہاں بھی تو قسم ہا قسم کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ حور و قصور کا ذکر ہے۔ بلکہ ستر ستر تک کا ہے۔ صاحب یہ عجیب چیز ہے۔ اس خواہش کو دباؤ کے تو جنس کے سوتے کہیں اور نفسیاتی نالیوں کے رستے بہہ نکلیں گے۔ اس جبلت کا اظہار کہیں نا کہیں ہو ہی جاتا ہے۔ اندھا ہومر کس انداز میں ہیلن آف ٹرائے کا ذکر کر گیا، اس کے اندھے پن پہ رشک آتا ہے، پرپیچ الجھنوں اور کم مائیگی نے ہیلن آف ٹرائے کو جنم دیا، بقول یوسفی صاحب اجنتا کے غار دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جواں راہب حسین ترین عورت بنانے کے چکر میں ہی بڈھے ہو گئے۔ ان تصویروں میں جو بھوک نظر آتی ہے وہ کسی بھی زاہد کا رستہ کاٹ سکتی ہے۔ صاحبو اتنی سی بات سمجھ نہیں آئی کہ جس چیز کو چھوڑ ہی دیا تھا اس کی تصویروں میں اتنا تناسب، اتنے تیکھے نقوش اور ایسی گولایاں کہاں سے آ گئیں۔ شاید اسی لیے دینِ فطرت میں اس جذبے کی تکمیل کا حکم ہے۔


*****


معلومات کے جن بیش بہا خزانوں کی تلاش میں ہماری نسل خاصی ذلیل و خوار ہوئی تھی، آج کل دودھ پیتے بچوں کی زبان پہ ہیں۔ آپ کو ناگفتنی معلومات کے ان جہانوں کی سیر کرائیں گے کہ عقل دنگ رہ جائے۔ ہمارے ہمدمِ دیرینہ آغآ اس مسئلے پہ بڑا کڑھتے ہیں۔ "ہمارے وقتوں میں یہ آسانیاں کیوں نہ میسر ہو سکیں تب تو کواڑوں کے پیچھے کی خبر لانے کو چلے کاٹنے پڑتے تھے" آغا پھر بھی خوسقسمت رہے کہ دو دو خوشفہمیاں پال رکھی تھیں مگر اپنی طرف تو یہ عالم تھا تانیث کے نام پہ فقط ایک سائیکل کا قرب میسر تھا۔ حال تو آغا کا بھی برا ہی تھا کہ جناب ان خوشفہمیوں کی ترکیبِ استمعال سے ہی نا واقف تھے، بہت ہوا تو نظر بھر کے دیکھ لیا اور اسی نظر کے فسانے سنا سنا یاروں کو ہلکان کرتے رہے۔ ویسے یہ بات ہمیں آج تک سمجھ نہیں آ سکی آغا اپنی تمام تر خباثتوں کہ باوجود قلعہ نما برقعوں کے اندر موجود اشیاء کا اس قدر تفصیلی مشاہدہ کیسے کرتے تھے کہ اس کام کے لیے صرف خباثتوں کا وجود بہت ناکافی ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے آغا جو اپنے گھر میں ہل کے پانی پینا بھی گناہِ کبیرہ گردانتے تھے ان خوشفہمیوں کے اشارہ ابرو پہ کولہو کے بیل کی طرح جتے نظر اتے، ایک چکر میں دودھ لایا جا رہا ہے اور اس سے اگلے میں دہی۔۔اور پھر اگلے دو چکروں میں غیر ضروریات۔


عرصہ ہوا چھوٹا بھتیجا اس وقت چوتھے یا پانچویں درجے میں تھا۔ ایک روز کتاب اٹھائے اور منہ بسورے پاس آ بیٹھا۔ ان حضرت کا بچپن سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جہاں کوئی بات منوانی ہو منہ بسورنا شروع کر دو۔ مجھے کچھ اندزہ ہو رہا تھا کہ مدعا کیا ہو سکتا ہے۔ اپنا عزیز از جان کمپیوٹر اور ایک بےضرر سی کارٹون سی ڈی اس کے حوالے کرنے کی کوشش کی تو جواب آیا کہ پڑھنا ہے اور اماں کے پاس وقت نہیں۔ بڑی حیرت ہوئی کہ اولاً تو یہ حضرت ناچیز کے آدھے نام کے ساتھ کچھ عادتوں میں بھی شریک رہے ہیں جن میں سر فہرس نصابی کتابوں کی نادر مخطوطوں کی طرح حفاظت ہے، سال میں ایک آدھ بار ہی امتحانوں کے نزدیک ہزارہا اختیاطی تدابیر کے بعد کھولا جاتا تھا۔ باقی عرصہ بیزار پروفیسروں کی طرح ان الماریوں کو گھورتے گزرتا جنہیں ان کی جائے عافیت ڈکلیئر کر دیا جاتا تھا۔ اور ثانیاً بھابھی بیگم کا تربیتِ اطفال و پدرِ اطفال کے معاملے میں خبطی ہونا ہے۔ مختصراً ان کے جیتے جی اس قسم کا انکار نا ممکنات میں سے تھا۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر پوچھ بیٹھے کیا ہے۔۔وہ حضرت بھی شاید انتظار میں بیٹھے تھے۔ مونڈھا میری کرسی کے نزیک کرتے ہوئے کتاب تھما دی۔۔۔۔۔ستم ظریفوں نے طہارت کے باب میں ایسا اشارہ دے دیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے ٹالا۔ یہ الگ بات ہے کہ جس بچے کو معصوم سمجھ کے الجھنوں کے طویل سلسلے سے بچانا چاہا وہی چند دن بعد یاروں سے اسکا مفہوم سمجھ کر ہماری جانب ایسی معلمانہ شفقت سے دیکھ رہا تھا جس کا مطلب کچھ یوں بنتا تھا۔۔۔۔۔بیچارہ گنوار ہی رہ گیا۔۔۔


ایک شام کی بات ہے، آغا کے ساتھ رمی کھیل رہے تھے کہ اچانک آغا کے پیٹ میں فلم بینی کے مڑوڑ اٹھنے لگے۔ اب آغا آغا ہیں۔ ان کو کسی بات سے باز رکھنا بھینس کو آرکسٹرا سنوانے کا مترادف ہے۔ ایسی ہی ایک بحث میں ہار مانتے ہوئے اس خاکسار کو اردو زبان کے ذخیرہ الفاظ میں کافی اضافے کرنے پڑے تھے۔ اکثر ان کے دلائل آستین چڑھانے سے شروع ہوتے ہیں اور مکہ بازی پہ ختم۔ سو اس دن بھی ہمیں ہار مانتے ہی بنی۔ ۔کوئی ہانگ کانگ کی فلم تھی مار دھاڑ وغیرہ سے بھرپور۔ اب چونکہ فلم کا انتخاب آغا نے کیا تھا اسی لیے صد فیصد یقین تھا کہ فلم میں مار دھاڑ سے کہیں زیادہ وغیرہ کا وجود ہو گا،اور وہی ہوا یعنی روح افزاء فلم تھی۔ ہم لوگ وغیرہ وغیرہ میں محو تھے کہ اچانک آغا کی بڑی بہن نے دروازے سے پکارا اور اپنا نونہال اندر دھکیلتے ہوئے ذرا درزی تک جانے کی نوید سنائی۔ وہ صاحب بھی آغا کی گود میں خاموشی سے بیٹھ کر فلم دیکھنے لگے ۔ بچے کی موجودگی کی وجہ سے اس ناچیز نے مقاماتِ آہ و فغاں گزارنے کی کوشش کی جو آغا نے بزورِ بازو ناکام بنا دی کہ بچہ ہی تو ہے اسے کیا علم چیزوں کا۔ اور شام کو اسی بچے نے اپنی رمزوں میں فلم کے وغیرہ وغیرہ کئی سو گنا بڑھا کے نشر کر دئیے۔۔۔۔نانو—ماموں مووی—-ہو ہائے—گندا بچہ۔


مت پوچھئیے اس کے بعد کیا ہوا

Wednesday, July 14, 2010

ایک تھا بادشاہ


 ایک تھا بادشاہ


پیارے بڑو! ایک تھا بادشاہ، ویسے تو ہمارا تمھارا خدا باداشاہ مگر اس ملک پہ خدا کے بعد اسی بادشاہ کی حکومت تھی۔ بادشاہ بڑا ہی عوام پرور اور نیکو کار تھا۔اس دور کے گزیٹڈ آفیسرز کی ڈائریوں کے مطابق اس کی حکومت میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک امن و امان کا دور دورہ تھا۔ امراء ایک سرے سے دوسرے تک سونا اچھالتے چلے جاتے۔ سرکاری ٹی وی کے اہلکار سارا وقت اس کے مخالفین کی منتیں کرتے کہ حضرت انٹرویو سے سرفراز فرمائیں مگر عوام کے ڈر سے کوئی سامنے نہ آتا کہ عوام اسے کئ بار استصوابِ راۓ کے ذریعے سو فیصد ووٹوں کے ساتھ منتخب کر چکے تھے۔ سو سرکاری ٹی وی کو مجبوراؐ روزانہ رات نو سے دس کے درمیان اس کے کامیاب دوروں کی کوریج کرنی پڑتی۔
بڑو! بادشاہ اتنا ہردلعزیز تھا کہ بارہ مہینے کسی نہ کسی ملک کا نمائیندہ دورے کی دعوت کے ساتھ حاضر رہتا۔ دینا کا کوئی ملک ایسا نہ تھا جہاں سرکاری مہمان گاہ کی کتاب میں اس کے دستخط نہ ہوں۔ بادشاہ کو جہانگیری کا اس قدر سودا تھا کہ چھٹیاں بھی بیرونِ ملک گزارتا۔ مگر بڑو وہ اس قدر فرض شناس تھا کہ چھٹیوں میں بھی فرینڈذ آف ملکِ خداداد کے اجلاس منعقد کرتا رہتا جن کے نتیجے میں بیرونِ ملک سے سرمایہ آندھی کی طرح ملکِ خداداد کا رخ کرتا۔ اس کا چہرہ اتنا پر نور تھا کہ اس پہ نظر پڑتے ہی اس دور کے عالمی مالیاتی ادارے سپردم بتو کہتے ہوۓ اپنے خزانوں کے منہ کھول کے کھڑے ہو جاتے، مگر چونکہ دنیا کے باقی ملک اس سے جلتے تھے سو مینگیاں اتنی ہو جاتیں کہ مینگنیوں میں دودھ کا گمان ہونے لگتا۔ مگر عوام پھر بھی اس سے اتنی محبت کرتے تھے کہ خود کو گروی رکھوا کر بھی قرضے کی نئ قسط جاری کروانے پہ ہمہ وقت تیار رہتے۔
اچھے بڑو، اس بادشاہ کے دور میں ملک اتنا خوشحال تھا کہ اس بادشاہ نے اپنے وزراء کے مشیروں کو بھی مرسڈیز دے رکھی تھیں۔ سرکاری افسران تک کو گاڑیاں نوکری کے بعد بھی کوڑیوں کے بھاؤ دستیاب تھیں۔ بادشاہ بڑا مردم شناس تھا اس نے چن چن کے سارے ملک سے رتن اکٹھے کر رکھے تھے۔ اکبر بادشاہ تو رتنوں کے معاملہ میں تہی دامن ہی رہا کہ فقط نو جمع کر سکا مگر ہمارے بادشاہ کی گدڑی تو ماشا اللہ لعل کا اتوار بازار تھا۔اس جوہر شناس کے رتنوں میں ہر ذرہ اپنی جگہ آفتاب تھا۔ بادشاہ چونکہ عالی نسبی پہ پختہ یقین رکھتا تھا اسی لئے سرکاری عہدے صرف اشرافیہ کو ہی دیتا۔ بادشاہ کا ماننا تھا موری کی اینٹ چوبارے پہ پہنچ کر بھی بو ہی مارتی ہے سو اسے موری تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔ بادشاہ کے اسی اصول کی وجہ سے مملکت میں مثالی گڈ گورننس قائم تھی
بڑو، بادشاہ دین پہ مکمل دھیان دیتا اس نے اس دور کے کئ علما و ممشائخ سے اچھے تعلقات قائم کر رکھے تھے، اکثر انہیں تحفے بھجواتا رہتا اس کا ماننا تھا کہ اس طرح دین روز افزوں ترقی کر رہا ہے۔ مملکت کے طول وعرض میں کئ سرکاری مدارس ایسے بھی تھے جہاں اس کا نام جمعہ کے خطبہ میں آیا مگر چونکہ بادشاہ نمود و نمائش سے کوسوں دور بھاگتا تھا اسی لئے اس نے یہ سلسلہ پھیلنے نہیں دیا اس کا یہ بھی خیال تھا کہ اس طرح مٹھی بھر بدخواہوں کا بھی بدعا کے مسلمہ اصولوں کے تحت خاتمہ بالخیر ہو سکتا تھا اور وہ بادشاہ حریفوں کو زندہ رکھنے کا قائل تھا۔
میرے بڑو ابن انشا نے عالمگیر کے بارے میں یہ لکھ کر کہ اس نے ساری زندگی کوئی جمعہ اور کوئی بھائی نہ چھوڑا، اس کی عالمگیریت کو گھٹانے کی ناکام کوشش کی ہے. بھلا یہ بھی کوئ بات ہوئ کہ اپنی تاریخ کا مذاق اڑایا جاۓ۔ ویسے بھی ہمارے بادشاہ نے سب بھائی پولیس مقابلوں میں مرواۓ تھے کہ بعد میں کوئ ابنِ انشاء بھد نہ اڑاۓ۔ ہمارے بادشاہ کا ماننا تھا کہ ایمان دل میں ہوتا ہے اور وہ بین المذاہب رواداری کا پرجوش مبلغ تھا سو اکثر ناشتہ علماء کے کسی گروہ کے ساتھ حلوے مانڈوں کا ہوتا۔ دوپہر کو واۓ ایم سی اے کے ظہرانے سے نکل کر اقلیتی کوٹے کا مشروب نوشِ جاں کرتا اور رات کو پروٹوکول سمیت کسی مندر میں ماتھا ٹیکتا پایا جاتا
عوام بادشاہ سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے اس کے آرام کا اسقدر خیال تھا کہ جس طرف سے اسے گزرنا ہوتا پہروں اس سڑک سے نہ گزرتے۔ اس کا محرک صرف یہ تھا کہ کہیں شاہی کارواں کی خاک پہ پیر پڑ کے انجانے میں بے ادبی نہ ہو جاۓ۔ بادشاہ کو بھی عوام کا اسقدر خیال تھا کہ رات کا پیشتر حصہ راگ و رنگ کی محفل میں بیٹھا عوام کے بارے میں سوچتا رہتا۔ عوام کے لیے اس کی محبت مسلمہ تھی۔ عوام کو صراطِ مستقیم پہ رکھنے اور نیک بنانے کے لیے قوانین انتہائ سخت بناۓ گۓ تھے۔ مزدور ٹیکس دیے بغیر ایک تنکا بھی گھر نہ لیجا سکتا۔ پولیس عوام کو عبرت دلانے کے لئے کسی کو بھی مقابلے میں مار ڈالتی کہ عبرت کی عبرت رہے اور عوام بھی شہادت کے درجے سے مستفیذ ہو سکے۔ ہاں مجرموں سے ہمارے بادشاہ کو نفرت تھی سو انہیں جی بھر کے دوزخ کمانے کا موقع دیا جاتا۔ایک بار بادشاہ کو اطلاع ملی کہ کچھ نام نہاد مسلمان رمضان کا مذاق اڑاتے ہوۓ سرِ عام کھا پی رہے ہیں۔ رحمدل بادشاہ نے ان جہنمیوں کو خدا کی لاٹھی کے لیے چھوڑ دیا مگر مزید لوگوں کو گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے ہر چیز کی قیمت میں ایک ہزار فیصد اضافے کا حکم صادر کر دیا تا کہ گناہ کے مواقع ہی نہ بچیں۔ ایک بار بادشاہ نے اخبار میں پڑھا کے کچھ لوگ سینما کے لیے بجلی چوری کرتے پکڑے گۓ۔ بادشاہ نے اسی وقت پورے ملک میں ایک ہفتہ کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کر دیا۔ بادشاہ نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ بجلی کی بندش کی وجہ سے وفات پا جائیں انہیں شہید کا درجہ دینے کی قرارداد قومی اسمبلی سے پاس کروا کر اللہ میاں کو پیش کی جاۓ۔
میرے بڑو، ہر عروج کو زوال ہے۔ سو رفتہ رفتہ ہمارے بادشاہ کا جی بھی امورِ سلطنت سے اکتا گیا۔ درویشی غلبہ پانے لگی اور وہ اس انتظار میں رہنے لگا کہ کوئی جانشیں ملے اور وہ اسے سب کچھ سونپ کر اپنے فرائض سے سبکدوش ہو سکے۔ چونکہ بادشاہ کا دھیان امورِ سلطنت سے ہٹ چکا تھا سو عوام کو روزمرہ استمعال کی اشیاء میسر آنے لگیں۔ مشیرانِ کرام نے جب یہ دیکھا کہ عوام نیکی کی راہ سے ہٹ کر دنیا داری کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کی فلاح کی کی خاطر کہیں سے ہما نۓ بادشاہ سمیت برآمد کیا اور ہمارے بادشاہ کے حضور پیش کیا۔ بادشاہ نے مشیران کے منہ موتیوں سے بھر دئے اور نۓ بادشاہ کو گلے سے لگاتے ہوۓ بولا


یہ گھر جو میرا تھا تیرا نہیں تھا
یہ گھر اب تیرا ہے میرا نہیں ہے


اس کے بعد بادشاہ نے ایک لمبی تقریر کے آخر میں نۓ بادشاہ کا ٹوسٹ تجویز کیا اور اسے عوام کی محبت جیتنے کے چیدہ چیدہ گر بتاۓ۔ اگلے دن ہمارے بادشاہ نے اسباب باندھا اور یورپ کی راہ لی کہ باقی عمر یادِ الٰہی میں بسر کی جا سکے

Saturday, June 26, 2010

آتش کی جوانی

آتش کی جوانی


کہتے ہیں جوانی دیوانی ہوتی ہے اور دیوانگی پہ کس کا بس چلتا ہے؟ عشق اور مشک چھپاۓ نہیں چھپتے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کہنے والے شاید درختوں پہ اگتے ہیں۔ ہمارا تجربہ بولتا ہے کہ اللہ میاں یا تو امریکہ میں جوان کرے تا کہ جی بھر کے کافر دوشیزاؤں سے عبرت پکڑی جا سکے یا پھر درختوں پہ ہی اگا دے کہ اپنے ہاں تو جس جس قسم کے بلوغت کش بزرگ پاۓ جاتے ہیں ان کے ساۓ میں انسان جوان کے علاوہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔

ہم تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے، "ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے"  کہ موت تو آتی ہے مگر ذرا دوسری طرح سے۔ آتی تو ہے مگر شباب پہ۔ بقول ہمارے یار چوہدری کے، جو نجانے کس کی قسمت سے ہمارے پلے پڑے ہیں، ہمارے ہاتھ میں جوانی کی لکیر ہی نہیں ہے۔ اس مشکوک روایت کے حق میں وہ کئ گفتہ و ناگفتہ دلائل پیش کرتے ہیں۔ جن کا بوجہ یہاں ذکر کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔

خیر عزیزو، ان کا ذکر تو ایسے ہی در آیا بات ہو رہی تھی بزرگوں کی۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اکثر سفید پوش جگت بزرگ چار پانچ سو چوہے کھا چکنے بعد بزرگ بنتے ہیں۔ اب اگر آُپ نے پورے نو سو کھا رکھے ہوں تو آپ نئ نسل کے کے لئے اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ کہ آپ کو اس راہ کی تمام گھاٹیاں ازبر ہو چکی ہوتی ہیں۔ مگر بزرگ اگر شومئ قسمت سے اول الذکر گروہ کے ہوں (جو کہ کثیر تعداد میں ہوتے ہیں) تو بچوں کو ان کی پہنچ سے دور ہی رکھنا چاہئے۔

ہمارا پالا بھی کچھ ایسے ہی بزرگوں سے پڑا۔ جوانی بنا دستک دئیے یوں خاموشی سے آئی کہ پتہ ہی نہیں چلا کس دن ابا مونچھیں صاف کرنے کی مشین دلانے لے کر گۓ۔ کیا زمانے تھے گرلز سکول کے پاس والی دوکان سے دہی خریدنا ہی ہماری سب سے بڑی بے راہ روی تھی۔ غصہ اب اس بات پہ آتا ہے کہ ہم واقعی اسے بے راہ روی سمجھتے تھے اور پہروں کن انکھیوں سے خود کو آئینے میں تکا کرتے، تانگے کا راستہ تک کاٹ لینا نہ ہوا۔ جس جمعہ کو مولوی صاحب جہنم کا ذکر کرتے، اس کے بعد کئی روز تک کم از کم تین دن دور سے ترش دہی لا کر گھر سے مار کھاتے۔

ہمیں اس زمانے میں ان یاروں پہ بڑا رشک آتا جن کے گھر نسبتا گرلز سکول کے پاس تھے۔ کمبخت صبح شام دہی لینے جاتے ۔ اور اس زمانے میں ہم انہیں ہی نواب واجد علی شاہ سمجھتے تھے۔ چوہدری کا گھر ہم سب میں سے گرلز سکول کے نزدیک تھا۔ فقط دس منٹ کی واک تھی۔ جو ہمارے گھر پہنچتے پہنچتے بیس ہو جاتے۔ مگر ہم اس پہ بھی شاکر تھے کہ ہم میں چند حرماں نصیب ایسے بھی تھے جو گرلز سکول سے آدھے آدھے گھنٹے کی مسافت پہ رہتے۔

سائیکل ہمیں مہیا نہ تھا کہ بزرگوں کی نظر میں بے راہروی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اگلے مرحلے پہ لڑکا لڑکیوں کو دیکھ کر سائیکل کی گھنٹی بجاۓ گا اور یوں پوری طرح بے راہروی کا شکار ہو جاۓ گا۔ للہ، ہمارے ذہن میں دور دور تک ایسا خیال نہ تھا۔ گھر میں سائیکل تو تھا اور تھا بھی ہمارا اپنا مگر ابا چونکہ اکثر شام کو گھر نہ ہوتے تو کسی نہ کسی بزرگ سے اجازت لینی پڑتی جو کہ بیل سے دودھ یا اس کی زوجہ سے پرواز کی توقع رکھنے کے مترادف تھا۔ سو سارا دن پیدل مارچ کرنے کے بعد رات کو جب عموماِ جوان روحیں اختر شماری کرتی ہیں ہم اپنی پنڈلیاں خود ہی دبا رہے ہوتے۔

غرض جوانی کے اس دور میں ہم میں سے ہر ایک اپنی سلطنت کا خود ہی بادشاہ تھا خود ہی وزیر اور گرلز سکول ہم سب کا دارالسلطنت تھا ۔

Thursday, June 17, 2010

ہم بنے مصنف

ہم بنے مصنف

یادش بخیر، صاحبو بے خبری سب سے بڑی عیاشی ہے۔ چین کی بنسی سے زیادہ سریلا ساز تو حضرت امیر خسرو بھی نہ ایجاد کر سکے۔ سو ہم اپنی بے خبر دنیا میں مست تھے۔ سالانہ چھٹیاں تھیں، زندگی مزے سے بسر ہو رہی تھی، صبح سویرے دو بجے اٹھتے، بس جمعہ کے روز ذرا جلدی اٹھنا پڑتا کہ جمعہ و عیدین چھوڑ کے بالکل ہی کافر ہونا ہمیں منظور نہیں اور آج کل گلے میں اپنی نام و نسب کی تختی بھی نہیں لٹکائی جا سکتی سو چہرے کے لیے مقدور بھر ہی سہی مگر نور کا انتظام ہمیں خود کرنا تھا اسی واسطے جمعہ کی نماز ہم نے کم از کم تعطیلات کے دور کے لیے خود پہ لازم کر لی تھی۔

سو بات ہو رہی تھی کہ صبح سویرے اٹھتے ٹٹول کر عینک تلاش کرتے تو ہاتھ سگرٹوں پر جا پڑتے، آنکھ کھلتے ہی بھرپور ناشتہ ہوتا۔ اس کے بعد نئے سرے سے عینک تلاش کی جاتی جو لیپ ٹاپ سے بغلگیر ملتی ۔ اب لیپ ٹاپ پہ ہاتھ پڑے اور ون اردو کی یاد نہ آئے کم از کم تعطیلات میں یہ نا ممکن ہے۔ سو عینک ناک پہ جما کر لیپ ٹاپ چلایا جاتا اور بے وزنی کے روزمرہ تجربات شروع کرنے چل پڑتے۔ امریکہ بہادر خوامخواہ ڈالر کو پانی کی طرح بہا کر اس قسم کے تجربات کر رہا ہے ہمارے مالک مکان سے رابطہ کرے وہ چند پاؤنڈز میں ایسی مخصوص سیٹوں کا بندو بست کر سکتا ہے جو آپ کو صبح سویرے بے وزنی کی کیفیت میں پہنچا سکتی ہیں۔۔۔ عاقل را اشارہ کافی است۔

سو یوں ہماری روشن صبح کا آغاز ہوتا۔ کافی کے جمبو سائز مگ کے ساتھ لیپ ٹاپ کے سرہانے آ بیٹھتے۔ اس کے بعد سورج میاں سے ہماری اگلی ملاقات تب ہی ہوتی جب وہ جانے کی جلدی میں ہوتے اور ہم سگریٹ خریدنے اپنی گلی کی نکڑ پہ طلوع ہوتے، ویسے بھی تعطیلات کے زمانے میں ہمیں سورج میاں سے بالمشافہ ملاقات کی کوئی خواہش نہیں ہوتی کہ باقی 344 دن ہماری جان کو آئے رہتے ہیں۔ نجانے یہ ان حضرت کو اس فقیر سے کس قسم کا بغض ہے کہ ہمیشہ اپنا ٹائم ٹیبل ایسا بناتے ہیں کہ عاجز بلبلا اٹھتا ہے۔ واللہ اگر ہم اس قسم کی آزاد منش نوکری پہ ہوتے تو کم از کم دوپہر دو بجے کام پہ پہنچتے۔ اب انہیں کون بتائے کہ دنیا کا نظام باہمی میل جول سے چل رہا ہے۔ خیر ہم اس پر بھی
خوش تھے وہ اپنے مدار میں رہتے اور ہم اپنے۔

مگر صاحبو دنیا میں دوام کس شے کو ہے۔ ہر چیز کو فنا کے گھاٹ اترنا ہے۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ہمارے معمولات کارکنانِ قضا و قدر کی نظروں میں آ گئے۔ ایک رات یہی کوئی پانچ بجے کا وقت ہو گا ۔ نیند کی دیوی بانہیں وا کئے ہمیں لبھا رہی تھی، سونے سے پہلے آخری بار ون ادو پہ لاگ ان ہوئے تو شہزاد بھائی کا پیغام حسبِ معمول بہتر سے بہتر حال میں ملا۔ یا اللہ خیر۔ دھڑکتے دل کے ساتھ میسج کھولا تو آگے بھائی اس اطلاع کے ساتھ موجود تھے کہ ہم بھی مصنف ہیں۔

ہمیں پہلے تو اپنی آنکھوں پہ یقین نہ آیا۔ میسج کو ریفریش کر کے پڑھا تو شہزاد بھائی پہ یقین نہ آیا۔ اے میرے پروردگار لوگ اس قسم کا پریکٹیکل جوک کیوں کرتے ہیں۔ لمبا چوڑا بہانوں سے بھرا میسج لکھا۔ صاف انکار بھی نہ کر سکتے تھے کہ جنگل میں رہ کر ہاتھی کو ناراض کرنا ایسے ہی ہے جیسے بندہ گرین کارڈ لے کر بنجمن نتن یاہو کے کے خلاف کالم لکھنا شروع کر دے۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے، بھائی کا انداز اتنا شائستہ ہے کہ ڈانٹ بھی رہے ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ٹھمری سنا رہے ہیں۔ سو کم از کم ہم تو سگریٹ، چاۓ اور شہزاد بھائی کو صاف انکار نہیں کر سکتے۔ اب آپ سے کیا پردہ ہم خود میں اس جوہرِ قابل کی دریافت پہ کچھ سرشار بھی تھے اور اپنی بے خبری پہ شاید زندگی میں پہلی بار نالاں بھی تھے۔ یہ تصور ہی خاصا امید افزا تھا کہ اب ہمیں ون اردو پہ ایک دو ملی گرام سے زیادہ گھاس میسر آیا کرے گی۔ مگر پھر بھی اس بات کا قوی امکان تھا کہ ہم سے رائٹرز فورم پہ وہی کام لیا جاۓ جو ہمارے بچپن میں گاۓ سے لیا جاتا تھا، ممضمون لکھنے کا۔۔۔۔۔ یہ ایک فریدوں ہے۔ اس کی دو ٹانگیں اور چار آنکھیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔

تو دوستو انہی خیالات میں غلطاں و پیچاں "یہاں" پہ ڈرتے ڈرتے کلک کیا۔ اصل میں ڈر ہمیں اس بات کا تھا کہ کہیں واقعی گوشہ مصنفین میں مقابلہ مضمون نویسی نہ برپا ہو اور کسی ہونہار مصنف نے یہ دعوٰی کر رکھا ہو کے وہ اب کہ فریدون پہ مضمون لکھے گا۔ سو ہمیں ذرا دیر کے لیے گھیر کے لانے کو کہا گیا ہو کہ مضمون لکھنے میں آسانی رہے گی۔ آپ اگر ایک نو دریافت شدہ مصنف پہ اس قسم کا بلکہ کسی بھی قسم کا مضمون اس کے مرنے سے پہلے لکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اندازہ نہیں اس کے جملہ اعضاۓ رئیسہ و غیر رئیسہ کس قسم کا ردِ عمل ظاہر کر سکتے ہیں۔

ہمارا پہلا شک بھوت بھائی پہ تھا کہ موصوف ہمیشہ بہت ہی دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ موڈز نے انہیں بزورِ بازو فورم کی مارکیٹنگ سے روک رکھا ہے ورنہ موصوف اپنے نصف قطر میں موجود تمام مینڈکوں اور چھپکلیوں پہ جلی حروف میں "ون اردو کی فخریہ پیشکش" پینٹ کرنا چاہ رہے تھے۔ پھر خیال آیا کہ ان سے ہمارا ایک مخصوص لحاظ کا رشتہ ہے وہ تو نہیں ہو سکتے۔ آدمی کمال کے ہیں ۔ کئی زبانیں بول سکتے ہیں جن میں اردو،پنجابی، انگریزی، جرمن۔ اور بکروں کی زبان خاص طور پہ قابلِ ذکر ہیں۔ ہر زبان میں جرار کا لفظ بڑی مہارت سے ادا کر سکتے ہیں۔ بکروں کو دوست مانتے ہیں سو بکری کا بہت احترام کرتے ہیں۔ گاندھی جی پہ ایک عرصہ تاؤ رہا کہ ان کے دوست کی بیگم پہ ڈورے ڈالتے تھے۔ وہ تو بھلا ہو اس شریف آدمی کا جس نے انہیں یقین دلایا وہ والی بکری کوئی اور تھی،

خیر گوشہ مصنفین میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے تو تصور کی آنکھ سے یہ مناظر دیکھے۔ شہزاد بھائی کی سنجیدہ آواز میں ہماری آمد کا اعلان ہوا۔ الاماں اتنی تالیاں شاید ہی ہم نے کبھی سنی ہوں، بڑی مشکل سے اپنے دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے تو تالیاں ختم ہوئیں۔ ساتھ ہی کسی نے ہمیں زبردستی جھکایا اور ہمارے گلے میں ایک ہار طوق کی طرح ڈال بلکہ لٹکا دیا جس پہ سالگرہ مبارک تحریر تھا۔ ابھی ٹھیک طرح خوش بھی نہ ہو پائے تھے کہ کسی اور نے وہ ہار اتار لیا ساتھ ہی آواز آئی سنبھال کے رکھنا ابھی اور لوگ بھی آنے والے ہیں۔

ابھی ہم یہیں تک میل ملاقات کر پائے تھے کہ اپنے پاؤں پہ ایک اور کلہاڑا مار بیٹھے ۔ گوشہ مصنفین میں ہر طرف گرماگرم بحث جاری تھی کہیں بھوت میاں بلڈوزر لے کر تجاوزات پہ چڑھ دوڑے تھے تو کہیں ٹیم بھائی و ہمنوا سیکنڈ ہینڈ بلاگز کو نیا کر کے بیچنے کے گر سکھا رہے تھے سو ہم بھی جوشِ تصنیف میں ایک بحث میں حصہ لے کر شامت کو خالہ جان بول بیٹھے۔ پھر کیا تھا ہم سے ٹکٹ یعنی تحریر کا مطالبہ ہونے لگا۔ اب ہاتھ پاؤں پھول چکے تھے اس لیے دوڑ بھی نہ سکے۔ سو یہ تحریر آپ کے سامنے ہے

Thursday, May 20, 2010

خبریں

چاۓ پینے سے ڈراؤنے خواب نہیں آتے جاپانی ماہرین
ٹائم 25 اپریل
جاپان کے کفار نے عشاق اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ چاۓ پینے سے ڈراؤنے خواب نہیں آتے جس کا کارن چاۓ میں پانے والے مقوی و مفرح مرکبات بتاۓ جاتے ہیں۔ میرا آپ سب سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا صرف چاۓ پینے سے کسی بھی قسم کے خوابوں کی بندش تو درکنار کیا ان کا تسلسل ہی ٹوٹ سکتا ہے؟ اگر ایسا ہو تو امریکہ صاحب جو اک عرصے سے فقط چاۓ کہ بل بوتے پہ تیل اور خون حاصل کر رہے ہیں بڑی مشکلات کا شکار ہو جائیں ۔ذرا تصور کیجئے کہ داؤدی پڑاؤ میں حشر بپا ہے صدرِ امریکہ ایک کونے میں خجل سے بیٹھے ہیں،وجہ صرف یہ ہے کہ ایک مسلم حکمران نے چاۓ پینے کے باوجود اپنے عوام کو گروی رکھنے سے انکار کر دیا۔ اب سی آئ اے والے کینیا و سیلون* پہ فوری حملے چاہتے ہیں کہ سیٹلائٹ فوٹیج کے مطابق ان ممالک سے تعلق رکھنے والے چاۓ کے کاشت کار اس سازش کے کرتا دھرتا ہیں۔ جے ہو

عشاق کا تو دارومدار ہی سگریٹ اور چاۓ پہ ہے تصور کیجئے کہ لیلیٰ کا باپ مجنوں کا کو ایک کپ چاۓ پیش کرتا ہے جس کے ختم ہوتے ہی وہ لیلیٰ کو کالو کالو پکارنا شروع کر دیتا ہے اور باقی عمر صحرا کی آبادی میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ رانجھا ہیر کی شادی خانہ آبادی میں چاۓ پیتا ہوا کیٹرنگ سروسز انجام دے رہا ہے۔ اور فرہاد ایک چاۓ خانے سے نکل کر تیشہ بیچتا ہے اور انہی پیسوں سے کاغذ قلم خرید کر عرضی نویسی شروع کر دیتا ہے۔

*مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہر دو مقامات کا چاۓ کی پیداوار میں وہی مقام ہے جو تیل کی پیداوار میں عرب شریف/موت کی کاشت میں امریکہ اور نقطہ ناتحقیق کی پیدائش میں ملکِ اسرائیل کا ہے

ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــ
مسلمان ملکوں کے لئے نیا تبادلہ(ایکسچینج) پروگرام
جیو نیوز آن لائن

امریکہ بہادر نے مسلم ممالک کے لئے نۓ تبادلہ پروگرام کا اعلان کیا ہےجس کے نتیجے میں مسلمان ملکوں کو ترجیحی بنیادوں پہ حکمران اور ایجنٹ* فراہم کئے جائیں گے اور بدلے میں ان سے تیل اور گیس وصول کی جائیں گی۔ امریکہ نے کہا ہے کہ جدید فنون میں ماہر مسلمان خواتین کو ترجیحی بنیادوں پہ امریکہ میں ترقی کے کے مواقع فراہم کئے جایئں گے۔ صدرِ امریکہ نے اس موقع پہ اس خاتوں کو پیش کیا جس نے مخلوط جماعت کی امامت کرائ تھی۔ انہوں نے اس موقع پہ دو ارب ڈالر سے ایک فنون و ایجاد کا پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے اس سلسلہ میں رقم کی فراہمی کے لئے کرزئ، مالکی اور زرداری صاحب سے رابطہ کیا گیا ہے اور نتائج حوصلہ افزاء ہیں۔

* بظاہر تو دونوں ایک ہی معلوم ہوتے ہیں مگر مخصوص حالات میں دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دائیں اور بائیں ہاتھ میں ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــٓ
پہلی بار حکومت کو اسٹیبلیشمنٹ کی مدد حاصل ہے
ایکسپریس۔ آن لائن ایڈیشن 26 اپریل
وزیرِ اعطم صاحب نے نے فرمایا ہے کہ پہلی بار حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی پوری مدد حاصل ہے ہم سب ایک ہیں، ہم نے حصے طے کر لئے ہیں جو لوگ کسی خوس فہمی میں مبتلا ہیں انہیں چاہئے کہ وہ باز آ جائیں اس بار ہم نے دسترخوان ہی وسیع بچھایا ہے سو کسی کو اسے اسے لپیٹنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اٹھارویں ترمیم کے کے بعد بااختیار اور طاقتور وزیرِ اعظم ہیں۔ اس کا مظاہرہ انہوں نے اپنی مرضی سے بیت الخلا جا کر اور گھی کا کنستر اٹھا کر کیا۔ دوسری جانب بھارت کے مشیرِ براۓ پاکستانی خزانہ نے اعلان کیا ہے فی الحال بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جاۓ گا کیونکہ ہم پوری دیگ کھانا چاہتے ہیں جس کے لئے ٹھنڈا کرنا ضروری ہے۔

ایف سی کے سابق سپریٹنڈنٹ کے خلاف نیب ریفرینس
جیو نیوز آن لائن
ایف سی کے سابق سیریٹنڈنٹ کے خلاف ملازمت کے دوران صرف ایک کڑوڑ اٹھارہ لاکھ روپیہ کمانے پر ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب حکام اس بات پہ چیں بچیں ہیں کہ زرو خان نے صرف ایک کڑوڑ کمایا۔ جبکہ سیٹ انکو وہ فراہم کی گئ تھی جہاں روپیہ بارش کی طرح برستا تھا۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ ہمارے بھی بچے ہیں جن کے خرچے اس مہنگائ کے دور میں پورے کرنے پڑتے ہیں اب ہمارے بچے تو اس ایک شخص کی عاقبت نا اندیشئ کی وجہ سے بھوکے رہ گۓ نا، تفصیلات کے مطابق مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لئے نیب حکام نے چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــ
اجمل قصاب کو پاکستان کےحوالے کرنے پہ غور شروع کر دیا ہے۔بھارت
جنگ آن لائن ایڈیشن 26 اپریل

بھارت نے اجمل قصاب کو پاکستان کےحوالے کرنے پہ غور شروع کر دیا ہے خبروں کے مطابق اجمل قصاب نے کلمہ بھی سیکھ لیا ہے اور اسے "خ" بولنے کی پریکٹس بھی ہو گئ ہے۔ جیل حکام نے اس خبر کا خیر مقدم کیا ہے ان کے مطابق حالانکہ اجمل ڈیوٹی پہ تعینات گارڈز کو ہر تھوڑی دیر بعد "جے رام جی کی " بولتا تھا مگر پھر بھی وہ گارڈز پتلوںوں پہ دس گنا خرچہ کروا رہے تھے اور اس کو "اجمل بھائ " بولتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق جیل حکام کے را سے تعلقات اس کیس کے بعد ناچاقی کی حد تک خراب ہو چکے ہیں اور وہ آئندہ اتنا دلیر بندہ بھیجنے پہ ستی ہونے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــ