Showing posts with label کالم. Show all posts
Showing posts with label کالم. Show all posts

Tuesday, September 13, 2011

same old bush--سیم اولڈ بش

 اردو کی بورڈ کی غیر موجودگی میں یہ تحریر لکھی۔

So here I am, with a new yet delicately planed and ruthlessly executed immature stuff. Presuming that you guys had nothing left to do in the name of goodness apart from waiting for words( I would rather say fits) of wisdom showering entire manhood. Or as great men are often referred to along their journey. A thick fat slob testing everybody's patience with mambo jumbo.

There are a couple of good reasons I am almost certain that every single one of those reasons can make you guys start believing in a great deal of goodness behind me switching to English as a language of choice. But its good to be honest, at least sometimes, So, one of them is, I can't see any chance of me touching a new computer for a good while and old one hates Urdu, I can't touch a new one, or to be precise my new machine, mainly because of my stupid insurance policy and credit card issuer. I  mean they just have to think I am an all new and changed person who won't miss any payment(at least for first few months) and that's it. Job is done. Look at it, these guys have just trusted a bunch of thugs and psychos with multimillion dollar packages, i.e aid packages for poor Pakistani people after flood. If they can trust these criminals then what's wrong with me? Can't they give a poor old guy an other chance to change and earn himself some happiness? Oh dear God! this place knows no fairness. No wonder we are doomed as species by natural disasters. These filthy jews, they have risked well being of a whole species by declining poor chappies required finances. And all to protect their so called lending standards.

Saturday, August 13, 2011

کیا پکائیں؟

بولنے اور بولتے ہی چلے جانے کی لت عجیب ہے صاحبو۔ کسی ایسے سے پوچھو جس کی بولتی بند کی یا کرائی گئی ہو۔ جیسے اپنے ایک بہت ہی بڑے شاعر نے کہا ہے عجب دستور زبان بندی تیری محفل میں وغیرہ۔ اقبال بھی اگر دل کی بجائے منہ سے نکالتے تو طاقت پرواز دیکھتے۔ یقین نہ آئے تو ابھی افواہ اڑا کر دیکھ لیجئیے۔ خاکسار کی زبان یعنی کمپیوٹر درجہ شہادت پہ فائز ہونے کے بعد بولتی کی اہمیت خوب ذہن نشین ہوئی۔۔ بلاگر والا بلاگ بھی کمپیوٹر کے ساتھ ہی راہی ملک عدم ہو چکا تھا اور نئی نئی بولتی بند ہونے کے باعث دردِ شکم دردِ زہ کی شدّت کو پہنچتے پہنچتے رہ جاتا تھا۔ یکایک یار لوگوں نے گوگل ٹیکسٹ ایڈیٹر کو الو بنانے کا طریقہ دریافت فرما لیا اور دردِ شکم سے نجات کی امید ہونے لگی ہے۔ آپ میں سے اکثر نے انور مسعود کی شاہکار نظم "آج کیہہ پکائیے" سن رکھی ہوگی۔ اگر نہیں سنی تو مجھ پر یقین کیجئیے عمدہ نظم ہے۔ اگر یاد ہوتی تو پیش کرتا۔ شاعری کے بے محل ذکر سے یہ بتانا مقصود تھا کہ مجھ پہ بھی اس کثیرالعیال خاتون کی طرح جو ہفتے عشرے بعد کہیں سے لوٹی ہو اور ایک آدھ مہمان بھی بغل میں داب رکھا ہو، آج کیا پکائیں کی آفاقی کیفیات کا نزول ہورہا ہے۔


ازمنہ قبل از دردِ شکم میں یار لوگوں نے کھینچ کھانچ کالم نگاری کی کھاٹ پر ڈال دیا تھا۔ جو کہ فی الحال عاجز کی رسائی سے باہر ہے۔ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔ ایک رینگتے ہوئے مزاح نگار کو کالم نگار بنانے پہ پردہِ غیب سے انہی علامات کا نور ظہور ہوا کرتا ہے۔ مائل بہ موبائل ہیں مگر الفاظ ہاتھ سے پھسلے جا رہے ہیں۔ کالم لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مضمون بننے لگتا ہے اور مضمون شدت سے کالم پسند ہو رہا ہے۔ سوچ رہا ہون تحریکِ کالمان بلاگستان کی بنیاد رکھی جائے، آخراپنے الگ صوبہ اور اپنی الگ جماعت کا مطالبہ پیش کرنا آئینی حق اور آج کل کا فیشن ہے۔ میرے ٹوٹے پھوٹے کالم نما قلم پاروں کی اولین اور فی الحال آخری قاری محترمہ رافعہ کے بقول خاکسار بے ادبی کی اس ذیل میں نام کمانے کی خاصی صلاحیت رکھتا ہے۔ دریں چہ شک۔ پوت کے پاؤں پالنے وغیرہ میں۔۔ مگر ابھی تک میرا نام نیم پلیٹ پر ہی روشن ہو سکا ہے۔ چلتا ہے۔۔ رازی نے قریباً ادھیڑ عمری میں طب کی جانب رجوع کیا۔ نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز۔۔ اگرچہ خاکسار کا رجحان فکشن کی جانب تھا۔۔ مگر بڑوں کی بات ماننی چاہیے۔


آج چودہ اگست ہے۔ اسی پہ خوش ہو لیتے ہیں۔ چینیوں نے ایک سیٹلائیٹ بنا کر چھوڑ دیا۔ جس کو بنتے ہوئے سپارکو والے دیکھتے رہے۔ جشن آزادی کا تحفہ پاکستانی سیارہ۔ اللہ اکبر۔ پاکستان زندہ باد۔۔ یہ نصیب۔۔واللہ۔ لوٹنے کی جا ہے۔ کاش ہمارے ہونہار انجنیئیرز یہ کام پاکستان میں کر سکتے۔ مثبت پاکستان کا مطلب منفی ہندوستان لینے والے احباب جب پڑوسی کے کسی تجربے کی ناکامی پر ناچتے ہیں تو جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے یہ کام اپنے ملک میں کیا۔ اپنی افرادی قوت کی تربیت کا سامان بہم پہنچایا۔ ادھر ہمارے۔۔ لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور۔ چین ہمارا سرپرست نہ بنتا تو شائد ہم آج بغلیں بجانے کے بھی قابل نہ ہوتے۔۔ مجھے تو اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کی نوکری پہ اگر کبھی لات ماری۔۔ یا یوں کہیے کہ امریکہ کے معاشی حالات اتنے بگڑے کے مفت کے ملازم کی بھی جا نہ رہی تو ہم شائد چینی کو سرکاری اور دفتری زبان بنا لیں گے۔ بطور قوم ہمارا شعور شائد سو چکا ہے۔ ہم اگلی نسلوں کو صرف نفرت اور تنگ نظری ترکے میں دے رہے ہیں۔ ہم ذہن کی تمام بتیاں گل کرکے اپنی سوچ سے دنیا منور کرنا چاہتے ہیں۔ اور قومی غیرت کے کیا کہنے۔ بقول ایک مہربان۔۔ سبحان اللہ ماشاءاللہ کانفرنس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرینڈز آف پاکستان جیسے گروہوں کو ہم باوا کے منشی سمجھ بیٹھے ہیں۔ ادھر کچھ ہوا ادھر کشکول بردار چل پڑتے ہیں۔ دے جا سخیا راہ خدا۔۔


آئیے اس دن خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارا شعور جاگ اٹھے۔ ہم انسان کی قدروقیمت سے آگاہ ہو جائیں۔ ہم اپنی اگلی نسلوں کو کم از کم بھبھسے ہوئے ذہنوں کا ترکہ مت پہنچائیں۔
مولا شہرِگلاب سلامت

Friday, June 10, 2011

افکارِ دگر--- بلاگنگ اور اردو

بلاگنگ، اردو مستقبل کا اہم کھلاڑی۔

بزعمِ خود دانشور، مصنف نما شے ہونے کی کافی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اور اگر آپ گمنام یا نو آموز ہیں تو یہ قیمت کئی گنا بڑھ جایا کرتی ہے۔ میٹر یا مواد کی تلاش میں ہر چیز پہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ سامنے آتا ہے اس کے وہ معانی بنتے ہیں۔ اچھے سیل مین کی طرح مواد کو مارکیٹ کرنا پڑتا ہے۔ اور ابتدائی مراحل پہ مارکیٹنگ کے لیے مواد کی موجودگی از بس ضروری ہے کہ ابھی لوگ آپ کا نام نہیں جانتے اور خریدار کے سامنے کچھ رکھنا بھی ہے۔  ہمارے پاس تحقیق سے زیادہ تنقید کے شائق آتے ہیں سو ان کو راغب کرنے کے واسطے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے ورنہ ایک تنقید برائے تنقید پہ مشتمل تبصرہ ہی ہفتوں کی محنت پہ پانی پھیرنے کو کافی رہتا ہے۔ اور آنلائن دنیا میں ویسے بھی تبصرہ لینا جان جوکھم کا کام ہے۔ جتنا آسان ہمیں پڑھنا ہے اتنا ہی آسان ہم سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ہے۔ کوئی ایسی چیز جو قاری کو کلک نہ کر سکے، قاری کو ہفتوں دور رکھ سکتی ہے۔ اور قاری کے ذہن میں آپ کی بات اگر غلط جگہ کلک کر جائے تو یہ عرصہ مہینوں میں بدل جاتا ہے۔ کتاب یا اخبار کی مانند نہ قارئین کی آپشنز محدود ہیں کہ اب یہی میسر ہے اسے ہی پڑھو اور کتاب بند کرنے کے ایک طرف رکھنے کی نسبت بلاگ بند یا سکپ کرنا کافی آسان ہے۔

Wednesday, June 08, 2011

آبِ حیاتیات پہ دو سطور

 یادش بخیر۔۔ پار سال چائے پہ لکھنے کی فرمائش موصول ہوئی۔ احقر متامل تھا کہ اولاً مشاہیر ظرافت تواتر سے اس قدر معیاری مضامین باندھ چکے ہیں کہ کم از کم مزاح نگاروں کے اعصاب پہ سوار حسینہ لپٹن دیوی کہلائی جا سکتی ہے۔ اور ثانیناً پاؤ صدی کے عشق کا بیان ایک ناپختہ مضمون میں ناممکن ہے۔علاوہ ازیں احقر کے نزدیک اسے کارِ بیکار بھی کہا جا تا ہے کہ جائے کی مدحت میں بہترین قصائد فی البدیہہ ور عینِ وصل میں ہی وارد ہوتے ہیں،اور عینِ وصل کے لذائذ  کی تفاصیل کا بیان ازلی و جبلی طور پہ غیر فطری و ناگفتہ بہ ہے۔  تاریخ گواہ ہے کہ ہر ثقہ بند عاشق کے واسطے ذکرِ لیلیٰ قربِ لیلیٰکی مہمیز ہے سو اس کلیے کے مطابق ہمیشہ چائے پہ لکھنے سے بہتر چائے نوشی ہی لگی جو راقم کے صدقِ عشق اور وفورِ شوق پہ دال ہے۔ اس اقرارِ حال کے بعد بھی اگر آپ اس مضمون کو پڑھتے ہی چلے جائیں تو یہ آپ کی خوش  مذاقی پہ دال ہے۔

Tuesday, June 07, 2011

افکارِ دگر

خیالاتِ پریشاں

گارشیا مارکیز سے میرا پہلا باقاعدہ تعارف ایک کالم کے ذریعے ہوا۔ یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ بحیثیتِ اوسط قاری میرا مطمع ہمیشہ سے کتب سے ڈیکوریشن کا کام لینا یا کبھی کبھار کسی پھڑکتی ہوئی لائن کی تلاش ہی رہا ہے۔ اور ناول کی طوالت کا ساتھ دینے کا سوال ہی خارج از امکان ہے۔ عالمی ادب کے مسلسل غیر حاضر طالب علم کی حیثیت سے لاطینی اور روسی ادب نے متاثر کیا، یہ الگ بات ہے کہ لاطینی کے معانی سے بھی لاعلم ہوں۔ خیر چلتا ہے یہ سب۔ اگر سبھی لوگ پڑھے لکھے ہوں تو ان بڑے بڑے ناولوں کو کردار کہاں سے ملیں۔ اپنے اکثر ماہناموں کا تو چولہا ٹھنڈا ہو جائے جن کی روزی ناخواندگی پہ منحصر ہے۔ لکھنےپڑھنے والے طبقات فکری طور پہ مونٹیسوری میں ہی سکول سے بھاگ لیے تھے۔ اس کے بعد سے مسلسل نجی طور پہ لکھ اور پڑھ رہے ہیں۔ خاکسار نے اپنی گنہگار آنکھوں سے عاقل بالغ لوگوں کو ایسے ادب پاروں میں فلسفہ نما اشیاءکی موجودگی کی شہادت دیتے دیکھا ہے جن میں فلسفہ تو کجا پلاٹ کی موجودگی بھی غیر یقینی لگی۔ انتہائی غیر منطقی سی منطق ہے کہ آفریدی قبائل اسلحہ سے غیر متعلقہ کوئی فلسفہ تراش سکتے ہیں۔ یوں تو اپنے ان ہر دم تیار غیور جوانوں میں کسی بھی قسم کا فلسفلہ ملنا نیلے چاند کی امیدِ سعید ہوا کرتی ہے پھر بھی کچھ دیر کو فرض کر لیتے ہیں اس قوم نے بندوق کے علاوہ کسی اور شے پہ غور کیا جس کی بڑی بوڑھیاں بھی پیش قبض سے مصالحہ زیر و زبر اور تہہ و بالا کرتی ہیں۔ سوچئیے اور محظوظ ہوئیے کہ آفریدی قبائل پہ فلسفہ کے پرچار کا نازیبا الزام لگا۔ واللہ میرے جذبات ان بھائیوں کے بارے میں انتہائی نیک ہیں اور یہ ہمارا بازوئے شمشیر زن ہیں مگر قبلہ آفریدی خون سے فلسفہ کا مطالبہ یونہی ہے جیسے شاہد

Monday, February 28, 2011

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

کہنے کو تو استاد کہہ گئے اور ہم ایسے پڑھ پڑھ سر دھنا کیے ؎ہوئے مر کے ہم جو رسوا۔۔ مگر خدا لگتی ہے یہ ان معدودے چند دعووں سے ہے جن سے خاکسار سو فیصد غیر متفق ہے۔ ایمان کی کہوں تو اپنے ہاں مردوں سے زیادہ مقام و مرتبہ فقط جرنیلوں اور محبی الطاف حسین کو نصیب ہو سکا۔ اس کے علاوہ سب ہیچ۔ اس دھرتی کا چلن ہے کہ یہاں مردوں کو مردہ بعد میں تسلیم کیا جاتا ہے اور بخشندہ پہلے۔ بینک لوٹتے ہوئے بھی مرو تو معاملہ اللہ کے سپرد کر کے فاتحہ کہہ لی جائے گی۔ صاحبو دو گز زمین اور سات گز لٹھا تو ہر نفس کا بنیادی حق ہے مگر جس طرح دو گز زمین پہ چار گز اونچا گنبد اور اس گنبد تلے چھ گز ریشم پہ ہر شخص کا حق تسلیم کیا گیا ہے، دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ آج بھی اس ملک میں غاصبوں تک بعد از مرگ اللہ کی رحمت پہنچانے والے بہت مل جائیں گے۔ " بھئی مر گیا، اب برائی مت کرو۔ اللہ کی سپرد"۔۔ کاش ہم سوچ سکیں" بھئی یہ ایک زندہ انسان ہے۔ اس کی معمولی خطائیں اللہ کے سپرد"۔