از مائرہ علی
۔اب اپنی حالت یاد آتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت اپنی حالت کسی حد تک ہاتھی کو رکشا میں سوار کروانے والی ہی جیسی تھی۔ایسے میں اپنا کوچنگ سینٹر یاد آیا۔ میں دوسرے دن ہی سینٹر پہنچ گئی۔ پروگرامنگ کے سر سے ملاقات بھی کر لی اور ٹائم بھی سیٹ کر لیا۔ اب میں ہفتے میں تین دن سر سے پڑھنے جانے لگی۔ ایسا نہیں تھا کہ یونی کے سر اچھا نہیں پڑھاتے تھے بلکہ سارا مسئلہ تو میرے دماغ کے اسکریوز کے ساتھ تھا جو بار بار پھسل پھسل کر میرے ہاتھوں میں تشریف فرما ہو جاتے تھے۔